Al-Risala · July 2015

روزہ برائے ترک ممنوعات

Al-Risala, July 2015, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ہر عمل کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک لیکن روزہ (صوم) میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اس عظیم اجر کا سبب یہ بتایا کہ روزہ دار، اللہ کے لئے (لأجل اللہ) اپنی شہوات کو چھوڑ دیتا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر: 9714) اس حدیث کے مطابق ، روزہ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ ترک ممنوعات کی تربیت ہے۔ زندگی میں ’ترک‘ (چھوڑنے) کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں اختیار سے زیادہ ’ترک‘ کی اہمیت ہوتی ہے۔ ’ترک‘ کے آئٹم اگر نوے فیصد ہیں تو اختیار کا آئٹم ایک فی صد ہے۔ اختیار کے آئٹم کی فہرست بنائی جاسکتی ہے، لیکن ترک کے آئٹم کی فہرست بنانا ممکن نہیں۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے اختیار ایک کم مشکل کی چیز ہے۔ برعکس ’ترک‘ کی مشکل بہت زیادہ ہے۔ مثلاً حج میں گھر سے نکل کر مکہ کا سفر کرنا، اور حج کے مراسم ادا کرنا نسبتاً کم مشکل ہے۔ اس کے برعکس، قرآن کی اس آیت پر عمل کرنا بے حد مشکل ہے، جس میں کہا گیا ہے: فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الحَج (2:197) یعنی حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ اور نہ لڑائی جھگڑا۔

روزہ اسی مشکل کام کی تربیت ہے۔ رمضان میں ایک مہینہ کا روزہ دراصل ایک علامتی ’ترک‘ رمضان کے مہینہ میں ایک علامتی ’ترک‘ کے ذریعہ لوگوں کے اندر یہ نفسیات جگائی جاتی ہے کہ وہ ترک کی اہمیت کو سمجھیں، وہ ترک کے بارے میں حساس بنیں، وہ ترک کلچر کو اپنی پوری زندگی میں اسی ترک کلچر پر لوگوں کو ابھارنے کے لئے یہ فرمایا گیا کہ اس عمل پر اللہ کا بے حساب اجر ہے، جس طرح کلمہ میں إلا اللہ سے پہلے لا إلہ آتا ہے، اسی طرح مطلوب عمل سے پہلے غیر مطلوب اعمال کا درجہ ہے۔ غیر مطلوب اعمال کو ترک کرنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ درست طور پر مطلوب عمل انجام دے سکے۔

Printed page