Al-Risala · July 2015

آل عمران ، رکوع آخر

Al-Risala, July 2015, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ آل عمران کی آخری رکوع میں مومن کی تصویر بتائی گئی ہے۔ اس رکوع میں کل گیارہ آیتیں ہیں۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:

آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ رب، ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب، تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، میں ان کی خطائیں ضرور ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں۔ یہ تھوڑا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ

کے پاس نیک لوگوں کے لئے ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔ اور بے شک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو، صبر کرو اور صبر پر قائم رہو اور باہم مربوط رہو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہوگے۔

آیات - ان آیتوں میں مومن کی فکری زندگی کو بتایا گیا ہے۔ وہ صبح و شام، رات دن تخلیق خداوندی پر غور کرتا ہے۔ اس مسلسل غور و فکر سے اس کو زندگی کی حقیقت معلوم ہوتی وہ پکار اٹھتا ہے، خدایا، مجھے آخرت کی ابدی دنیا میں ناکامی سے بچا۔ آیات 194-193 - تخلیق خداوندی میں غور و فکر کے نتیجہ میں وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ داعی حق کی بات کو کامل سنجیدگی کے ساتھ سنے۔ وہ تعصب کے تمام پردوں کو پھاڑ کر اس کو پہچان لے۔ وہ کسی تحفظ ذہنی کے بغیر داعی حق کی پکار پر، اس امید کے ساتھ لبیک کہتا ہے کہ اس کا ایسا کرنا اس کو اللہ کی نصرت کا مستحق بنائے گا۔

آیت 195 - یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک فکری سطح پر اس کا اعتراف کافی نہیں۔ کے نزدیک ضروری ہے کہ آدمی کا فکری اعتراف عمل کی سطح پر ظاہر ہو، وہ اس کی عملی زندگی میں ڈھل جائے۔ اس کے بعد چار عملی کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہجرت، اخراج وطن، اللہ کے راستے میں ایذاء، یہ چار باتیں اپنی شکل کے اعتبار سے مطلق نہیں ہیں، البتہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مطلق ہیں، اور ہر زمانے کے اہل ایمان سے یکساں طور پر مطلوب ہیں۔ رسول کے معاصر اہل ایمان کے لیے اس کا اظہار ان چار صورتوں میں ہوا ہے۔

بعد کے زمانے میں حالات کی نسبت سے ان کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ تاہم ان کی اصل حقیقت قربانی (sacrifice) ہے، اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ہمیشہ مطلوب رہے گی۔

قربانی کے بغیر ہو، وہ ایمان اللہ کے نزدیک مطلوب ایمان نہیں ہے۔ چوں کہ پیغمبر کے معاصر اہل ایمان کے ساتھ یہ چاروں قسم کے تجربات پیش آئے۔ مگر بعد کے اہل ایمان کے لیے زمانے کے اعتبار سے اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ ان چاروں چیزوں کی اصل حقیقت قربانی کی سطح پر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے۔ بعد کے زمانے کے اہل ایمان کے لیے بھی یہ شرط موجود رہے گی۔ البتہ حالات کے اعتبار سے اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔

اس کے بعد انسانوں کے لیے دو مختلف قسم کے انجام کا ذکر کیا گیا جو لوگ خدا سے سرکشی کا طریقہ اختیار کریں، ان کے لیے آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ برعکس، جو لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ اختیار کریں وہ آخرت کی ابدی دنیا میں جنت کے باغوں میں جگہ پائیں گے۔

اس آیت میں اہل ایمان کی اس صفت کا ذکر ہے کہ وہ تعصب سے کامل طور پر خالی ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ وہ ہر رسول پر یکساں طور پر ایمان رکھتے ہیں۔ کوئی دنیوی مصلحت ان کو سچائی کے راستے سے ہٹانے والی نہیں۔ اس آیت میں صبر واستقامت کی تاکید کی گئی ہے۔ ایمان کے راستے پر چلنے کے بعد ایسے مواقع بار بار آتے ہیں، جو آدمی کو متزلزل کرسکتے ہیں اور اس کو شبہ میں ڈال سکتے ہیں۔ طرح کے مواقع پر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فکر کو پھر سے بیدار کرے۔ وہ غور وفکر کے ذریعے اپنے آپ کو یقین پر قائم رکھے۔ اس طرح اس کے اندر صبر واستقامت آئے گی۔ اہل ایمان کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ بندھار ہے گا۔ اگر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آئے گی تو وہ اس کو اپنی ذہنی بیداری کے ذریعے اپنے لیے غیر مؤثر بنادے گا۔

آخر میں فرمایا اتقوا الله لعلكم تفلحون۔ یہ تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔ مذکورہ تمام افعال صرف اس وقت مطلوب صورت میں انجام دیے جاسکتے ہیں، جب کہ ان کے پیچھے تقوی کی اسپرٹ موجود یہ صرف تقوی ہے جو کسی انسان کی حقیقی فلاح کا ضامن ہے۔ تقوی کے بغیر فلاح کا حصول ممکن نہیں۔

Printed page