فطرت کا نظام
Al-Risala, July 2015, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایا گیا ہے۔ خالق کو یہ مطلوب ہے کہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طور پر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کر دیتا ہے۔ اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کر کے اس رکاوٹ کو درست کرتا ہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے۔ اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میں نسی (intercalation) کا واقعہ ہے۔ نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (lunar calendar) اور شمسی کیلنڈر (solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریبا بارہ دن کا فرق ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں عربوں نے نسی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ خود ساختہ طور پر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کر کے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کر لیتے تھے۔
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کر دیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کر دیا۔ حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو، خطبہ حجۃ الوداع، صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3197، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1679۔
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔
قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد (religious persecution) ہے۔ زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کا طریقہ رائج تھا۔
مزید یہ کہ اس مذہبی انتہا پسندی کو پولٹِسائز (politicize) کرکے، اس کے حق میں وقت کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل کرلی گئی تھی، اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی نے عملاً مذہبی تشدد (religious persecution) کی صورت اختیار کرلی تھی۔
یہ صورتِ حال خدا کے قائم کردہ تخلیقی نقشے کے خلاف تھی۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ مذہب کے معاملے میں تشدد کا طریقہ ختم ہو، اس کے بجائے پورے معنوں میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا طریقہ رائج ہوجائے۔ تا کہ ہر شخص آزادانہ طور پر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کر سکے۔
مذہبی جبر کے خاتمہ کا یہ عمل رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں شروع ہوا۔ (gradual process) کے تحت وہ تاریخ میں سفر کرتا رہا۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ عمل یورپ میں پہنچا۔ اہل یورپ نے اس میں مزید اضافے کئے۔ یہاں تک کہ مذہبی آزادی کا مطلوب نظام اپنی آخری صورت میں قائم ہوگیا۔ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور لانے کے معاملے میں اہل یورپ کا رول تکمیلی رول کی حیثیت رکھتا ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ کے اس واقعے کو سمجھیں، وہ اہل مغرب کے خلاف اپنے منفی ذہن (negative thinking) کو مکمل طور پر ختم کردیں، اس معاملے میں وہ اہلِ مغرب کے کنٹری بیوشن کا اعتراف کریں، وہ اہلِ مغرب سے رقابت کا تعلق ختم کردیں، اور اس کے بجائے دوستی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اس معاملے میں اہل مغرب کو اپنا محسن سمجھیں۔ مسلمانوں کے درمیان جب اس قسم کا مثبت ذہن پیدا ہوگا تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے منفی ذہن کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا، اور دعوتِ الی اللہ کا فریضہ بخوبی طور پر انجام پانے لگے گا۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی قومی شکایتوں کو مکمل طور پر ختم اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ مسلمان خدا کے قائم کردہ فطری نظام کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو استعمال کریں۔