شیطان سے حفاظت
Al-Risala, July 2015, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: یا عمر فو اللہ، إن لقيك الشيطان بفج قط، إلا أخذ فجاجير فجك (مسند احمد، حدیث نمبر: 1624) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر، خدا کی قسم، جب بھی شیطان تم سے کسی راستہ میں ملتا ہے، تو وہ تمھارے راستے کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار (mysterious) بات نہیں ہے، اور نہ وہ ایک شخص کی فضیلت کے معنی میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہر اس شخص کی بات ہے، جس کو شعوری ایمان حاصل ہو۔ یہ وہی ایمانی تجربہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ (7:201) یعنی جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے، تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں، اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق شیطان سے بچنے کا اصل راز تذکر ہے۔ تذکر کا مطلب ہے یاد کرنا (to remember)۔ مگر یہ یاد، سادہ طور پر صرف یاد کے معنی میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اتنا زیادہ با شعور ہو کہ جب شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالے، تو وہ فوراً اس کا تجزیہ (analysis) کرکے، اس کو بے اثر بنادے۔ حضرت عمر اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر یہی کام کرتے دوسرے وہ تمام اہل ایمان بھی یہی کام کریں گے، جن کے اندر ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں تجزیہ کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہو۔ مثلاً اس نوعیت کا ایک واقعہ یہ ہے۔ حضرت عمر خلیفہ کی حیثیت سے مدینہ میں اپنے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص (عیینہ بن حصن) آیا۔ اس نے کہا: یا ابن الخطاب، فو الله ما تعطینا الجزل ولا تحکم بیننا بالعدل۔ یعنی اے ابن خطاب، تم ہم کو نہ کچھ دیتے ہو، اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو۔ یہ سن کر حضرت عمر کو غصہ آگیا۔ انھوں نے اس کا
قصد کیا (تاکہ اس کو سزا دے)۔ اس وقت حر بن قیس نے کہا، اے امیر المومنین، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ نادان سے اعراض کرو (7:199) اور یہ بلاشبہ ایک نادان شخص ہے۔ یہ سن کر عمر رک گئے، اور انھوں نے عیینہ کے خلاف کچھ نہیں کیا (صحیح البخاری: 4642)
حضرت عمر قرآن کی مذکورہ آیت سن کر کیوں رک گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کے ذہن نے معاملہ پر از سر نو غور کیا۔ پہلے وہ عیینہ کو ایک غلط انسان سمجھ کر، اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ اب انھوں نے از سر نو غور کیا، تو ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ ایک نادان آدمی ہے، اور اس قابل ہے کہ اس سے اعراض کا معاملہ کیا جائے۔
اس طرح کے معاملات دوسرے صحابہ اور تابعین کے بارے میں بھی کثرت سے کتابوں میں مثلاً ابوذر اور بلال دونوں صحابی تھے۔ ابوذر کو کسی بات پر بلال پر غصہ آگیا۔ ان کی زبان سے نکلا، یا ابن السوداء (اے سیاہ فام ماں کے بیٹے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: یا اباذر، إنك امرء فيك جاهلية (اے ابوذر، تمھارے اندر ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ تمھارے بھائی (اخوان) ہیں۔ سن کر حضرت ابوذر کے اندر ندامت پیدا ہوئی۔ ان کو محسوس ہوا کہ میں اس معاملہ کو سیاہ فام اور سفید فام کا معاملہ سمجھتا تھا۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ انسان کا معاملہ ہے۔ اور انسان کے اعتبار سے دونوں برابر پہلے اگر شیطان نے ان پر حملہ کیا تھا تو اب تذکر کے نتیجہ میں وہ شیطان کے اثر سے باہر آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی، وہ عمر کی فضیلت کے طور پر نہ تھی، بلکہ آپ نے ایک شخص کے حوالے سے ایک اصولی بات بتائی۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں ہر انسان شیطانی حملوں کی زد میں ہر انسان شیطانی وسوسہ کا شکار ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی کا ایمانی شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ جب بھی شیطان اس کے دل میں کوئی برا خیال ڈالے، تو وہ فورا اس کا تجزیہ کر کے اپنے آپ کو اس کے اثر سے بچالے۔ مذکورہ حدیث میں راستہ بدلنے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ شیطان کی نسبت سے۔