ہجرت ایک تدبیر
Al-Risala, July 2015, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی ۔ تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت کا لفظی مطلب ہے، ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانا۔ دور اول کی تاریخ میں ہجرت کوئی پر اسرار واقعہ نہ تھا۔ یہ حالات کے پیش نظر ایک تدبیر کا معاملہ تھا، جو نتیجہ کے پہلو سے نہایت کامیاب ہوا۔
ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقام عمل کو بدلنے کا نام ہے۔ اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ اصولی اعتبار سے اسلام کا مشن ہمیشہ ایک رہے گا۔ لیکن تدبیر کا تعلق حالات سے ہوتا ہے۔ لئے داعی کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کرے، وہ ہر قسم کی جذباتیت سے الگ ہو کر وقت کی صورت حال کا گہرا جائزہ لے۔ اس کے بعد حالات کے اعتبار سے دعوت کا ایسا منصوبہ بنائے جو اپنے مقصد کے اعتبار سے زیادہ موثر ہونے والا ہو۔
تدبیر کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی جد و جہد کے آغاز میں تین سال تک دعوت کا کام انفرادی ملاقاتوں کے انداز میں کیا، یہ ایک تدبیر کا معاملہ تھا۔ میں کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، آپ نے بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرکے ان کے زائرین کے درمیان پر امن دعوت کا کام کیا۔ مکہ میں مخالفت بڑھی تو آپ نے اپنے مقام کو بدلا، اور مکہ سے تقریباً تین سومیل دور مدینہ کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا۔ حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مدینہ واپسی کا فیصلہ کیا، وغیرہ۔
یہ سب تدبیر کے واقعات تھے۔ تدبیر دراصل حکیمانہ منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے۔ کے لئے نظری اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت توحید کی ہے۔ اور عملی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت حکیمانہ تدبیر کی۔ ان دونوں پہلوؤں کی کامل رعایت کا نام کامیاب دعوت ہے۔ ہجرت اپنے وسیع تر معنی میں اسی حکیمانہ اصول کا نام ہے۔