Paradise is for purified soul
Al-Risala, January 2015, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ سے مراد کوئی پراسرار عمل نہیں ہے۔ تزکیہ ایک معلوم واقعہ ہے۔ قرآن میں جس تزکیہ کا ذکر ہے، وہ پراسرار معنوں میں کوئی دل پر مبنی (heart based) عمل نہیں، بلکہ وہ ایک مبنی بر ذہن (mind based) عمل ہے۔ تزکیہ ایک مسلسل شعوری عمل ہے، جس کے ذریعہ آدمی مسلسل غوروفکر کے ذریعہ اپنے ذہن کی تعمیر نو (re-engineering of mind) کرتا ہے۔
انسان کے اندر غیر معمولی فکری صلاحیت پائی جاتی ہے۔ ایمان آدمی کے اندر اس فکری صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔ ایمان کے بعد آدمی کے اندر ایک زندہ شعور جاگتا ہے، جس کے تحت وہ فکر و تدبر کی ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے، وہ ہر قسم کی ذہنی سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے شعور کو ارتقا یافتہ شعور وہ اپنی شخصیت کو ایک اعلیٰ ربانی شخصیت میں تبدیل کرتا ہے۔
کسی انسان کو جنت میں داخلہ مقداری عمل کی بنیاد پر نہیں ملے گا بلکہ جنت صرف اس انسان کو ملے گی، جس نے باعتبار کیفیت (in terms of quality) اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا۔ جنت میں داخلہ کی شرط ہے۔ مزید یہ کہ جنت میں داخلہ بربنائے استحقاق ہوگا، نہ کہ بربنائے تزکیہ کا تعلق کسی محدود مدتی کورس سے نہیں ہے، تزکیہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے، جو انسان کی پوری زندگی میں کسی وقفہ کے بغیر جاری رہتا ہے۔