Bid'a: Islamization of non-Islam
Al-Risala, July 2015, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے الفاظ میں اسے یوں کہیں کہ غیر اسلامی عقائد، رسم و رواج کو بدعت کے نام سے لوگ صرف کچھ معروف بدعتوں کو جانتے ہیں، مگر ان معروف بدعتوں سوا اور بھی بہت سی بدعتیں ہیں جو موجودہ زمانے میں شاندار طور پر مسلمانوں کے درمیان رائج ہیں، جن کو ماڈرن بدعت کہا جا سکتا ہے۔ ان ماڈرن بدعتوں کا ارتکاب مسٹر اور مولوی دونوں قسم کے لوگ یکساں طور پر کر رہے ہیں۔ بدعت کی کوئی لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔ ماڈرن بدعتیں کیا ہے ۔ وہ ہیں ۔ آؤٹنگ، شاپنگ، فیملی فنکشن، میرج سر یمنی، افطار پارٹی، عید ملن، جشن شب قدر، خطبہ (engagement) سر یمنی، نکاح سر یمنی، ولیمہ سر یمنی، وغیرہ۔ بدعت کا لفظی مطلب نئی چیز (innovation) ہے۔ یعنی دین میں کوئی نئی بات نکالنا۔ میں رسول اور اصحاب رسول کو نمونہ (model) کا درجہ حاصل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کی روش کو اسی ماڈل سے جانچا جائے گا۔ جو طریقہ رسول اور اصحاب رسول کے مطابق ہو، وہ سنت ہے، اور جو طریقہ رسول اور اصحاب کے نمونے کے مطابق نہ ہو، وہ بدعت ہے اور بدعت کو حدیث میں ضلالت (صحیح مسلم، حدیث نمبر : 867) کہا گیا ہے۔
کچھ لوگ جب کسی نئی چیز کو اسلام میں داخل کریں توان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس کے جواز (justification) کے لئے کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دیں۔ ایسے لوگ آیت یا حدیث کی غلط تشریح کر کے اس سے اپنے طریقے کو جائز ثابت کرتے ہیں۔ یہ طریقہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے، یعنی ایک غلط کام کرنا اور پھر قرآن وحدیث کی غلط تاویل کر کے اس کو صحیح ثابت کرنا۔ بدعت دراصل نان اسلام کو اسلامائز کرنے کا دوسرا نام ہے۔