Al-Risala · July 2015

شعور پر لا شعور غالب

Al-Risala, July 2015, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کا دماغ ایک بے حد پیچیدہ مشین ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک نازک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی چیز انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں داخل ہو جائے تو وہ انسان کے شعور (کانشس مائنڈ) پر غالب آ جاتی ہے۔ ایسی چیز کو انسان بلا ارادہ دہراتا رہتا ہے۔ اگر وہ اپنے شعور کو بیدار کر کے اس کو روکنا چاہے تو صرف وقتی طور پر شعور اس کے اوپر مؤثر ہوگا۔ جیسے ہی شعور میں کوئی دوسری بات آئی فوراً لاشعور اپنا کام کرنے لگے گا۔

انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت اپنا سخت محاسبہ کرتا رہے۔ وہ کوشش کرے کہ وہ کسی چیز کا اتنا عادی نہ بنے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے۔ کیوں کہ ایسا ہوتے ہی وہ انسان کے شعور کی پکڑ سے باہر ہو جائے گا۔ انسان غلطی کرے گا اور وہ یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلطی کر رہا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم ایسے اعمال سے بچو جن کے کرنے سے تمھارے اعمال حبط ہو جائیں، حالانکہ تم کو اس کا شعور بھی نہ ہو (2:49)۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا وہ اس بات کی بہت زیادہ کوشش کرے کہ کوئی غلط عادت اس پر اتنی زیادہ نہ چھا جائے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے۔ کیونکہ ایسا ہونے کے بعد وہ غلط کام کرے گا جب کہ وہ شعوری طور پر یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلط کام کر رہا ہے۔ لیکن آیت کے مطابق لاشعور کے تحت غلط کام کرنا بھی قابل اس لئے آدمی کو اس معاملہ میں بہت زیادہ چوکنا ہونا چاہئے۔

لاشعور کے تحت کیا ہوا عمل بھی کیوں قابل مواخذہ ہے، یہ بات نتیجہ کے اعتبار سے کہی گئی ہے۔ آپ اپنے لاشعور کے تحت غلطی کریں، تب بھی اس کا نتیجہ غلط ہی نکلے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لاشعور کے تحت کی ہوئی غلطی اپنا نتیجہ ظاہر نہ کرے۔ ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر عمل سے پہلے سوچے، اور اس کے بعد عمل کرے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ انسان اپنے عمل کے بارے میں آخری حد تک حساس بن جائے۔

Printed page