Ignore the problems, avail the opportunities
Al-Risala, July 2015, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پر امن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ (boycott) کا فیصلہ کیا تو آپ نے قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ مقاطعہ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پر امن طور پر شعب ابی طالب میں چلے گیے۔ اہل مکہ نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ دیں تو آپ نے اہل مکہ سے جنگ نہیں کی بلکہ ہجرت کر کے پر امن طور پر مدینہ چلے گیے۔ حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے سرداروں نے آپ کو اس سے روکا کہ آپ مکہ جا کر عمرہ کریں، آپ نے اس موقع پر ان سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ چلے گیے، وغیرہ۔
اسی کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کچھ اور مثالیں ہیں۔ مثلاً بدر کے
موقع پر آپ نے قریش سے قتال کیا، احد کے موقعے پر آپ نے اہل مکہ سے جنگ کی، حنین کے موقعے پر آپ نے قبیلہ ہوازن سے جنگی مقابلہ کیا، وغیرہ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے کبھی اس سنتِ رسول پر عمل نہیں کیا۔ انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مسائل کو نظر انداز کریں، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ گو یا بعد کے زمانے میں ہر بار انھوں نے اختیار ایسر (easier option) کے بجائے اختیار اعسر (harder option) کے طریقے پر عمل کیا۔
مثلاً موجودہ زمانے میں نو آبادیات (colonialism) کا مسئلہ پیدا ہوا۔ یہاں پر دوبارہ یہ امکان تھا کہ مسلم علماء اور مسلم رہنما ٹکراؤ کے بجائے پُر امن دعوت کے طریقے پر عمل کریں، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اسی طرح صهیونیت (Zionism) کا مسئلہ پیدا، اور 1948 میں فلسطین کے نصف حصے پر اسرائیل کی حکومت قائم ہو گئی۔ یہاں بھی مسلم رہنماؤں کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے پُر امن دعوت کا کام کریں۔ مگر تمام مسلم رہنما خواہ وہ عرب ہوں یا نان عرب، سب نے متفقہ طور پر اسرائیل کے معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس معاملے میں وہ اس انتہا تک پہنچ گئے کہ خود کش بمباری (suicide bombing) کو جائز ٹھہرادیا، وغیرہ۔
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا سبب وہی ہے جس کو مختلف حدیثوں میں پیشگی طور پر بتا دیا وہ یہ کہ امت مسلمہ بعد کے زمانے میں انحراف کا شکار ہو جائے گی۔ امت مسلمہ کا یہ بگاڑ اس نوبت تک پہنچ جائے گا کہ اصل دین امت کے اندر غریب (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145) ہو جائے گا۔ یعنی اصل دین لوگوں کے درمیان اجنبی دین بن جائے گا، اور خود ساختہ دین لوگوں کے درمیان معروف دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
بعد کے زمانے میں پیش آنے والا ظاہر ہ اسی صورت حال کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیش آنے والے حالات کے نتیجے میں امت کے اندر دین کا نشانہ بدل گیا۔ زیر اثر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ امت مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ وہ امت کا سیاسی غلبہ زمین پر قائم کریں۔
جگہ دوسری قوموں کو مغلوب کر کے اپنے آپ کو سیاسی طور پر غالب کریں۔ اس عمل کو انھوں نے اجتہادی خطا کے طور پر خلافت یا اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ حالاں کہ یہ مشن تمام تر ایک قومی مشن اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ امت مسلمہ کا مستقل مشن قرآن کے مطابق شہادت علی الناس (143:2) ہے۔ اس مشن میں ساری اہمیت پر امن جدوجہد کی تھی۔ اس مشن کا جنگ و قتال سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس مشن کا تقاضا تھا کہ اہل ایمان مسائل کو نظر انداز کریں اور پر امن طور پر دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیں۔
مگر جب ایسا ہوا کہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مسلم رہنماؤں نے سیاسی اقتدار کو اپنا نشانہ بنا لیا تو اس کے فطری تقاضے کے تحت ایسا ہوا کہ وہ قوموں سے جنگ و قتال کے عمل میں مصروف انھوں نے جہاد کی خود ساختہ تشریح کر کے اپنے متشددانہ طریقہ کار کو غلط طور پر جہاد کا نام دے حالاں کہ جہاد قر آن میں پر امن جدو جہد کا نام (25:52) ہے نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ کا۔ مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں کے اندر اگر پیغمبرانہ مزاج ہوتا، اور وہ غیر متاثر ذہن کے تحت قرآن وسنت کا مطالعہ کرتے تو وہ یقینا جان لیتے کہ پیغمبر اسلام کا مستقل مشن صرف ایک تھا، اور وہ پر امن دعوت الی اللہ۔ پر امن دعوت آپ کی زندگی کا حقیقی حصہ (real part) تھا، اور آپ کی زندگی میں چند بار جو جنگ و قتال کا مرحلہ پیش آیا وہ آپ کی زندگی کا اضافی حصہ (relative part) تھا۔