Al-Risala · July 2015

علم کی حد

Al-Risala, July 2015, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسفرائٹس لائے ہو، ہر شخص یہ سمجھے گا کہ علم بالکل ناکافی ہے اور ۴۱ یاد رہے کہ مہاتما جی کا فلسفی یا سائنس داں، جس شخص نے بھی گہرا علمی مطالعہ کیا ہے، آخر میں وہ اس رائے پر پہنچا ہے کہ انسانی علم کی ایک حد ہے۔ اس حد سے آگے انسان کے لیے جانا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر فلسفیوں کے درمیان یہ بحث تھی کہ انسان کے وجود کا علمی ثبوت کیا ہے۔ مشہور فلسفی ڈیکارٹ نے کہا کہ میں سوچتا دریاں ہیں یہ ساری کہ مانڈے کی دھوبی گھاٹ پر ہے ہوں اس لیے میں ہوں :

Printed page