I think therefore I exist.
Al-Risala, July 2015, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہ جواب کافی ثابت نہیں ہوا ۔ کیوں کہ دوبارہ یہ سوال سامنے آیا کہ یہ تو ایک داخلی ثبوت (subjective evidence) ہے نہ کہ موضوعی ثبوت (objective evidence)۔ کسی شخص کو ذاتی یقین دے سکتا ہے، لیکن دوسرے شخص کے لیے اس میں یقین کا سامان موجود نہیں۔ یہ یک طرفہ ثبوت ہے، نہ کہ دو طرفہ ثبوت۔
سائنس دانوں نے طبیعیاتی دنیا کا مطالعہ شروع کیا ۔ آخر میں وہ ایٹم تک پہنچے ۔ لیکن ایٹم بھی ٹوٹ گیا اور اس کے بعد جو کچھ تھا وہ ناقابل مشاہدہ تھا، یعنی ایک سائنس داں کے الفاظ میں قیاسی لہریں (waves of probability) ۔ اس کے بعد سائنس داں اس ناقابل حل سوال میں مبتلا ہوگئے کہ ہماری دنیا کا وجود خارجی (objective) ہے یا داخلی (subjective)۔ علم کے تمام شعبوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ اس کی آخری حد تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ایسی حالت میں یہ سب سے بڑا علم ہے کہ انسان علم کی حد کو جانے ۔ حقیقت کا اعتراف نہ کرنا بے حد خطر ناک ہے ۔ کیوں کہ وہ آدمی کو صرف کنفیوزن (confusion) تک پہنچائے گا ، نہ کہ یقین تک ۔ علم کا آخری مطلوب یقین ہے ۔ جو طریق مطالعہ یقین تک پہنچائے وہ علم ہے، اور جو طریق مطالعہ بے یقینی یا کنفیوزن تک پہنچائے ، وہ بلاشبہ بے علمی ہے، خواہ کوئی شخص ہے اور دوسرے میں خامہ بہ لب یا عجز ی ہے ؛ پ اس کو علم کا درجہ دیتا ہو۔