معرفت کا رزق
Al-Risala, August 2015, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے بارے میں فرمایا: شہر یزداد فیہ رزق المومن (صحیح ابن خزیمہ ، حدیث نمبر 1887) یعنی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہاں رزق سے مراد مادی رزق نہیں ہے، بلکہ معرفت کا رزق ہے۔ رزق ہے جس کو قرآن میں رزق رب (20:131) کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ روزے کی حالت میں فطری طور پر روزہ دار کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اپنے رب کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کرتا ہے۔ روزہ کے دوران وہ زیادہ یکسوئی کے ساتھ زندگی کی حقیقت پر غور کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر روحانیت جاگ اٹھتی ہے، اس کی ذہنی بیداری میں اضافہ ہوتا ہے، وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اللہ کی باتوں پر غور و فکر کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی حقیقتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زیادہ حکمت کے ساتھ اپنے اور دین کے تعلق کو سمجھ وہ قرآن کی آیتوں کے گہرے معانی کو دریافت کرے۔
رزق کا اضافہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے تو اس کا ذہن عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ بیدار ہو جاتا ہے، اس کی سوچ میں زیادہ گہرائی آ جاتی ہے، وہ اللہ کی باتوں میں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے لگتا ہے۔ روزہ دار کے اندر یہ بڑھی ہوئی کیفیت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ دین کے زیادہ گہرے پہلوؤں کا ادراک کر سکے۔ زیادہ گہرے انداز میں معرفت کا رزق حاصل کر سکے۔
روزہ دار کے لیے رزق معرفت میں اضافہ صرف بھوک پیاس کی بنا پر اپنے آپ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے۔ اس کا روزہ ، قرآن کے الفاظ میں، تقویٰ اور شکر کا روزہ بن گیا ہو۔