Al-Risala · August 2015

تدبر کی اہمیت

Al-Risala, August 2015, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بار بار تدبر پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ ص میں یہ آیت آئی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَکٌ لِيَدَّبَّرُوا اٰيٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کی اس آیت میں مبارک کا لفظ اس معنی میں ہے کہ قرآن کی ہر آیت میں گہرے معانی چھپے ہوئے ہیں۔ ان گہرے معانی کو صرف تدبر (contemplation) کے ذریعہ دریافت کیا جاسکتا ہے۔ اور جب قرآن کی آیتوں پر اس طرح غور کیا جائے، تو آدمی اُس کے اندر ایسے معانی دریافت کرے گا جو اس کی عقل کو ایڈریس کرنے والے اور اس کی شخصیت میں ربانی انقلاب لانے کا ذریعہ بن جائیں۔

قرآن میں بہت کم ایسی باتیں ہیں، جو صراحت کی زبان میں ہیں۔ زیادہ تر باتیں اُس میں سراغ (clue) کے اسلوب میں ہیں۔ یعنی ان آیتوں میں گہرے معانی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو آدمی کے لیے غور وفکر میں رہنمائی دیتے ہیں۔ یہ اسلوب اس لیے ہے تاکہ قرآن کے معانی کی دریافت کے ساتھ انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل بھی جاری رہے۔ مثلاً قرآن میں بار بار پانی کا ذکر ہے۔ انسان کے لئے پانی کی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ قرآن میں پانی کے گہرے پہلوؤں کا ذکر نہیں ہے۔ مثلاً پانی انسان کے لئے بہت سے فوائد کا واحد طہارت کے لئے اور دوسرے بہت سے فائدوں کے لیے۔ اس معاملے میں کوئی بھی چیز پانی کا بدل (substitute) نہیں۔ مگر قرآن میں اس حقیقت کو لفظی طور پر نہیں بتایا گیا۔ مثلاً یہ نہیں کہا گیا ہے کہ پانی کا کوئی بدل نہیں (لابَدیل لِلْمَاءِ)۔ پانی کے بارے میں اس حقیقت کو انسان کے اوپر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ اس پر غور کرے، اور پانی کی اس اہمیت کو دریافت کرکے، خالق کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے اور گہرائی کے ساتھ اُس کا شکر ادا کرے۔

Printed page