Al-Risala · August 2015

اختلاف کا سبب

Al-Risala, August 2015, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

امت کی بعد کی نسلوں میں فکری اختلاف کا سبب کیا ہے۔ یہ سبب وہی ہے جو پچھلی امتوں میں پچھلی امتوں کا واقعہ امت مسلمہ کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک تاریخی مثال کی حیثیت رکھتا یہ حقیقت قرآن کی سورہ البینہ میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: ﴿وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ۝ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ﴾ (98: 4-5) یعنی جو لوگ اہل کتاب تھے، وہ واضح دلیل آجانے کے بعد مختلف ہو گئے۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی اس کے لیے دین کو خالص کر دیں، یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی درست دین ہے۔

پچھلی امتوں میں جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اُن کو اللہ کی کتاب دی گئی تھی، لیکن ان کی بعد کی نسلوں کے درمیان کتاب کی تشریح و توضیح میں علماء کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ کی بنا پر امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ اختلاف کا یہی واقعہ ،فطرت کے قانون کے مطابق، امت مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں پیش آئے گا۔ دونوں کا مشترک سبب ایک ہے۔

یہ معاملہ کیوں پیش آتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امت کی ابتدائی نسل میں دین اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے زندہ ہوتا ہے۔ لوگوں پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین اصلاً اسپرٹ کا نام ہے۔ اس کی ظاہری صورت یا فارم (form) کا تعلق ہے، وہ دین کا ایک اضافی حصہ (relative part) یہ ایک حقیقت ہے کہ اسپرٹ میں ہمیشہ یکسانیت ہوتی ہے۔ اس لیے امت جب تک اسپرٹ والے دین پر قائم ہو، اُس وقت تک اس کا اتحاد باقی رہتا ہے، لیکن بعد کے دور میں زوال کی بنا پر اسپرٹ مفقود ہو جاتی ہے اور لوگ دین کے فارم کو اصل دین سمجھ لیتے ہیں۔ چوں کہ فارم میں ہمیشہ

اختلاف ہوتا ہے، اس لیے امت جب زوال کا شکار ہو کر فارم پر قائم ہو جائے تو ہمیشہ اختلافات پیدا پہلے اختلاف آتا ہے، پھر فرقہ بندی ہوتی ہے اور پھر مختلف گروہوں کے درمیان تشدد شروع ہو جاتا ہے۔

اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک حدیثِ رسول میں آیا ہے: لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب (مسند احمد، حدیث نمبر: 22671) یعنی سورہ الفاتحہ کے بغیر کوئی نماز، نماز نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صحابہ کے زمانے میں بھی لوگوں کو معلوم تھا، لیکن اس کی بنا پر لوگوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا، کیوں کہ اس زمانے میں اسپرٹ بھر پور طور پر زندہ تھی۔ سمجھتے تھے کہ اصل چیز یہ ہے کہ حالتِ نماز میں سورہ الفاتحہ کے معانی کی یاد دہانی ہوتی رہے۔ نمازوں میں ہر آدمی خود سورہ الفاتحہ پڑھتا تھا اور جہری نمازوں میں ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ امام کی زبان سے سورہ الفاتحہ کو سُن کر قراتِ فاتحہ کا مقصد نیابتاً حاصل ہو گیا۔

لیکن بعد کے زمانے میں جب امت کے اندر زوال آیا اور ساری اہمیت عبادت کے فارم کو دی جانے لگی، اُس وقت اس حدیث کو لے کر لوگوں کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہو گیا۔ نے کہا کہ جہری نمازوں میں سورہ الفاتحہ کی نیابةً ادائیگی کافی ہے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں، ہر مصلی کو لازماً اپنی نماز میں ذاتی طور پر سورہ الفاتحہ پڑھنا چاہیے، حتی کہ جہری نمازوں میں جب کہ امام بلند آواز سے قرات کر رہا ہو، تب بھی مقتدیوں پر لازم ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سورہ الفاتحہ پڑھیں، ورنہ ان کی نماز نہیں ہوگی۔

قرآن کی مذکوره آیت (5: 4-98) میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ زوال کے دور میں پچھلی امتوں کے درمیان اسی سبب سے اختلافات پیدا ہوئے۔ امت مسلمہ کے درمیان بھی اس کے زوال کے دور میں یہی صورت حال لازماً پیش آئے گی اور اس اختلاف کی بنا پر دین میں رایوں کا اختلاف اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ عام انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جائے گا کہ خدا کا بھیجا ہوا اصل دین (دین قیم) کیا ہے۔

Printed page