Al-Risala · August 2015

امت کا فکری زوال

Al-Risala, August 2015, pp. 14–17

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ: خير أمتي قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3650)۔ اس حدیث رسول میں اسلام کے تین ادوار کو خیر کے ادوار کہا گیا ہے۔ ان ادوار کو قرون ثلاثہ یا قرون مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے۔ ان تین ادوار سے مراد ہے - عہد رسالت، عہد صحابہ، عہد تابعین ۔ ان تین ابتدائی ادوار کی مدت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد تقریباً ایک سو سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد وہ دور شروع ہو گیا جو قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد کا دور تھا۔ گو یا کہ اسلام کی تاریخ میں مستند ادوار صرف ابتدائی تین بعد کے ادوار کو اسلام میں مستند حیثیت حاصل نہیں۔

اس مسئلے کی مزید تعین کی جائے تو کہا جائے گا کہ اسلام کے ابتدائی تین ادوار میں اسلام کا فکری مرجع تمام تر قرآن تھا۔ ثانوی مرجع کے طور پر حدیث بھی اس میں شامل ہے، کیوں کہ حدیث قرآن کی حدیث کے بغیر قرآن کو درست طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ تقریباََ سو سال بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو فقہی دور کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کے علاقے فتح ہوئے اور بتدریج اس علاقے کے لوگ اسلام میں داخل ہونا اس کے بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو عمومی قبولِ اسلام (mass conversion) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اسلام سے پہلے مجوسی مذہب یا مسیحی مذہب میں ان تمام مذاہب میں اُس وقت ساری اہمیت صرف فارم (form) کو دی جاتی تھی۔ لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت وہ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ اسلام کا فارم کیا ہے۔ یہی وہ دور ہے جب کہ اسلام کی تاریخ میں وہ شعبہ پیدا ہوا جس کو فقہ کہا جاتا ہے۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حدیثوں کی جمع وتدوین شروع ہوئی۔ فقہاء نے فارم کے بارے میں لوگوں کے سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے حدیثوں کو دیکھا۔ احادیث کے ذخیرے میں مختلف صحابہ کی زبان سے یہ بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح عبادت کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس معاملے میں صحابہ کی روایتیں مختلف ہیں۔ مثلاً کسی صحابی کی روایت آمین بالسر کے حق میں تھی تو کسی صحابی کی روایت آمین بالجہر کے حق میں تھی۔ احادیث کے ذخیرے میں اس طرح کے کثیر اختلافات موجود تھے۔

یہیں سے مسلمانوں میں ایک ڈی ریلمنٹ (derailment) شروع ہوا۔ فقہاء کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ دین میں اگر چہ اسپرٹ ایک ہے، لیکن فارم میں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے، اس لیے تم جس صحابی کی روایت پر چاہو عمل کرو۔ البتہ تم کو سب سے زیادہ دھیان اسپرٹ پر دینا لیکن فقہاء نے یہاں بطورِ خود یہ اصول وضع کیا کہ فارم کے بارے میں مختلف روایتوں میں

کوئی ایک ہی روایت درست ہو سکتی ہے، اس لیے اس ذہن کے تحت انھوں نے ترجیح کا اصول وضع وہ بحث ومباحثے کے ذریعے ایک طریقے کو رائج اور دوسرے طریقہ کو مرجوح قرار دینے لگے۔ ترجیح کا یہ اصول سب کو ایک رائے پر جمع نہیں کر سکتا تھا، کیوں کی امام شافعی کے الفاظ میں، ساری بحثوں کے باوجود فریق ثانی کے حق میں یہ احتمال باقی رہتا تھا کہ شاید اس کی رائے درست ہو۔ دین میں اسپرٹ کے بجائے فارم کو اہمیت دینے کا یہ فقہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے ایک رجحان ساز (trendsetter) واقعہ بن گیا۔ اس کے بعد دینی موضوعات پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریبا سب کی سب اسی نہج پر لکھی گئیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ دین بیضا کا دین غیر بیضا بن جانے کا اصل سبب یہی ہے۔

اگر آپ فقہی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ فقہ میں بظاہر اسلام کی مختلف تعلیمات زیر بحث آتی ہیں، لیکن عملاً تمام فقہی بحثیں ان تعلیمات کے فارم پر ہوتی ہیں۔ فقہ کا یہ پیٹرن اصولی بنیاد پر نہیں بنا، بلکہ حالات کے زیر اثر (situational factor) بنا ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سارا زور اسلام کی اسپرٹ پر دیا گیا ہے، لیکن فقہ میں ایک شفٹ آف ایمفیس (shift of emphasis) کا واقعہ پیش آیا اور سارا زور اسپرٹ کے بجائے فارم پر دیا جانے لگا۔ قرآنی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن اس کے بعد مزید یہ ہوا کہ فقہ کا یہ اسلوب، عملاً اہل علم کے درمیان عام ہو گیا۔ بعد کے اہل علم نے اسی پیٹرن کو معیاری پیٹرن کی حیثیت سے اختیار کر لیا۔ وہ اسی انداز میں سوچنے لگے اور اسی انداز پر کتابیں لکھنے لگے۔ یہ فقہی پیٹرن اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں شاید کوئی بھی کتاب اس سے مستثنیٰ نہیں۔

مثلاً ابن تیمیہ (وفات: 1328ء) کی کتاب ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ اسی نہج کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں ابن تیمیہ نے شاتم رسول کے لیے قتل کی سزا بتائی ہے۔ اس لیے کہ فقہانے بعد کے زمانے میں یہ حکم وضع کیا کہ شاتم کو بطور سزا قتل کیا جائے گا (یقتل حدا)۔

حالاں کہ قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں۔ ابن تیمیہ اگر کتب فقہ سے اوپر اٹھ کر اس موضوع پر قرآن کی اسپرٹ کے مطابق، اس مسئلے پر غور کرتے تو وہ لکھتے کہ شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے، شاتم کو دعوت دینا ہے، نہ کہ قتل کرنا۔ شاتم بظاہر دشمن نظر آتا ہو، تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے، وہ ایک انسان ہے۔ اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہو جائے (41:34)۔ اس طرح کی ایک مثال شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1762ء) کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ اس کتاب کا ٹائٹل بظاہر قرآن کی ایک آیت (6:149) سے ماخوذ ہے۔ مگر عملاً یہ کتاب قرآنی پیٹرن پر نہیں لکھی گئی ہے، بلکہ فقہی پیٹرن پر لکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے تمام مباحث فقہی اسلوب پر مبنی ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں سترہ سے لے کر جہاد تک کے تمام ابواب موجود ہیں، لیکن اس میں دعوت الی اللہ کا باب موجود نہیں۔ حالاں کہ اگر مصنف ، قرآن کے اسلوب کا تتبع کرتے تو یقیناً وہ اس حقیقت کو دریافت کر لیتے کہ قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دی گئی ہے۔ قرآن پورا کا پورا ایک کتاب دعوت ہے۔

Printed page