Al-Risala · August 2015

معانی کے بجائے الفاظ کی اہمیت

Al-Risala, August 2015, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کو مبنی بر فارم مذہب (form-based religion) قرار دینے کا دوسرا شدید تر نقصان یہ ہوا کہ اسلام میں عقلی توجیہہ (rational interpretation) کا مزاج ختم ہو گیا۔ وحدیث کے مطالعے میں ساری اہمیت لفظی تشریح (literal interpretation) کو دی جانے لگی۔ بعد کے زمانے میں مسلم اہل علم نے جو کتابیں لکھیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی نہج پر لکھی گئیں۔ معاملے میں غالباً صرف ایک کتاب مقدمۃ ابن خلدون کا استثنا ہے۔ اس منہج فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے اندر عملاً عقلی غور وفکر مکمل طور پر مفقود ہو گیا۔

علامہ انور شاہ کشمیری (وفات: 1934ء) برصغیر ہند کے مشہور عالم ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ حدیث (الحلال بین والحرام بین) کو سمجھنے کے لیے انھوں نے حدیث کی تمام متداول شرحیں

دیکھیں، مگر کسی شرح میں انھیں اس حدیث کی کوئی بامعنی وضاحت نہیں ملی۔ چناں چہ وہ اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: لم يتحصل عندنا منه شيء غير حل الألفاظ (فيض الباري علي صحيح البخاري: 1/ یعنی حل الفاظ کے سوا مجھے اس میں کچھ اور نہیں ملا۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا یہ تبصرہ حدیث کی تمام شرحوں پر صادق آتا ہے۔

Printed page