Al-Risala · August 2015

دو مثالیں

Al-Risala, August 2015, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں ایک مسئلہ وہ ہے جس کو خفین پر مسح کا مسئلہ کہا جاتا ہے، یعنی مسافر آدمی اگر وضو کر کے موزوں کے اوپر مسح کرے تو تین دن تک اُس کو وضو کے موقع پر اپنا پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں۔ اُس کے لیے صرف موزوں کے اوپر مسح کرنا کافی ہوگا۔ اس شرعی مسئلے کے بارے میں امام ابو حنیفہ (وفات: 767ء) کہتے ہیں کہ دین کی بنیاد اگر رائے (عقل) پر ہوتی تو میں کہتا کہ پاؤں کے نیچے سے مسح کیا جائے، نہ کہ پاؤں کے اوپر سے۔

امام ابو حنیفہ کا یہ قول صرف اس لیے ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں حدیث رسول کو محض الفاظ کے اعتبار سے لیا۔ انھوں نے اس حدیث رسول پر عقلی اعتبار سے غور نہیں کیا۔ اگر وہ اس حکم پر غور کرتے تو وہ کہتے کہ مسح علی الخفین وضو کا بدل نہیں ہے، بلکہ وہ وضو کی ایک علامت ہے۔ موزے کے اوپر مسح کرتا ہے تو وہ علامتی طور پر وضو کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اور جب وہ علامتی ہے تو یہ بات اضافی ہو جاتی ہے کہ پاؤں کی کس سمت سے مسح کیا جائے۔

اسی طرح اس معاملے کی ایک مثال ابن قیم الجوزیۃ (وفات: 1350ء) کی مشہور کتاب طريق الهجرتين وباب السعادتين‘ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہجرت کی دو تقسیم کی ہے— ایک، اللہ کی طرف ہجرت، یعنی اللہ کی عبادت اور اللہ سے محبت، وغیرہ۔ دوسرے، رسول کی طرف ہجرت، یعنی رسول کی سنت کا اتباع۔

اسلام میں ہجرت یا مہاجرت صرف ایک چیز کا نام ہے اور وہ صرف ترک وطن

مصنف نے دو ہجرت کا تصور صرف ایک لفظی بنیاد پر اخذ کیا ہے، وہ یہ کہ صحیح البخاری کی پہلی روایت جو نیت کے بارے میں ہے، اس میں یہ الفاظ آئے ہیں: فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله (صحیح البخاري، حدیث نمبر: (54) اس حدیث میں طریق ہجرت کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ نیت ہجرت کو بیان کیا گیا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہجرت کی دو قسمیں ہیں، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ہجرت صرف وہ ہے جو رضاء الہی کے جذبہ سے کی جائے۔

اس اسلوب کا نقصان یہ ہے کہ اس میں وضوح (clarity) کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر آدمی صحیح طور پر نہ ہجرت کی حکمت کو سمجھ پاتا ہے اور نہ دوسرے مذکورہ اعمال کی حکمت کو۔ گو یا جدید تعلیم کی اصطلاح میں یہ ایک مائنس مارکنگ (minus marking) کا معاملہ ہے جس میں دونوں قسم کے احکام کی گہری معنویت قاری کے ذہن سے حذف ہو جاتی ہے۔

بعد کے زمانے میں جو کتا بیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی اسلوب پر لکھی گئیں۔ اسلام کی ابتدائی تین نسلوں تک لوگوں کے درمیان قرآنی طرزِ فکر غالب تھا۔ بعد کو مسلمانوں میں جو دور آیا، اس میں عام طور پر فقہی اسلوب کا غلبہ ہو گیا۔ تاہم پرنٹنگ پریس کے وجود میں آنے سے پہلے اس ذہن کی اشاعت صرف محدود پیمانے پر ہو سکتی تھی، کیوں کہ اُس زمانے میں کتابیں مخطوطات (manuscripts) کی شکل میں ہوتی تھیں اور مخطوطات کے ذریعے کسی فکر کی عمومی اشاعت ممکن نہیں اٹھارھویں صدی عیسوی میں جب پریس کا زمانہ آیا تو اس کے بعد مسلم اہل علم کی کتابیں چھپ کر عمومی طور پر پھیلنے لگیں، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں یہ حال ہوا کہ ہر زبان میں اس قسم کی مطبوعہ کتابیں اتنا زیادہ عام ہوئیں کہ کوئی بھی مسلمان اُس سے بے خبر نہ رہا۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں جس فتنه دہیماء کا ذکر ہے، وہ اصلا یہی فتنہ ہے، یعنی قرآنی طرزِ فکر کا خاتمہ اور فقہی طرزِ فکر کی عمومی اشاعت اور پھر دورِ پریس میں اس کا اتنا زیادہ بڑھ جانا کہ کوئی بھی مسلمان اس کی زد سے محفوظ نہ رہے۔

Printed page