وضوح کا مسئلہ
Al-Risala, August 2015, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے دور اول (قرون مشهود لها بالخير) میں دین کا یہی تصور غالب تصور کی حیثیت اس کے بعد دھیرے دھیرے اس میں کمی (erosion) شروع ہوئی اور پھر وہ وقت آیا جب کہ عمومی طور پر دین کا یہ تصور گم ہو گیا۔ عمر بن عبد العزیز (وفات: 720ء) غالباً اسلام کے دور اول کے آخری شخص ہیں۔
اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا زمانہ وہ ہے جب کہ لوگ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کر رہے اس کے نتیجے میں بیت المال میں آنے والے جزیہ کی رقم بہت کم ہو گئی تھی۔ چنانچہ خراسان کے ایک گورنر جراح بن عبد اللہ نے عمر بن عبد العزیز سے شکایت کی اور کہا کہ مفتوح ممالک میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ چوں کہ اسلام لانے کے بعد جزیہ ساقط ہو جاتا ہے، اس لیے لوگوں کے بکثرت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مملکت کا مالیہ بہت کم ہو گیا ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو خزانہ خالی ہو جائے گا۔ عمر بن عبد العزیز نے گورنر کو لکھا۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا تھا، ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا تھا۔ إن الله إنما بعث محمد أ صلى الله عليه وسلم داعياً ولم يبعثه جابياً (البداية والنهاية: 9/213)
عمر بن عبد العزیز کے زمانے کے ایک اور گورنر عدی بن ارطاة نے اس طرح کی شکایت کو لے کر خلیفہ کو لکھا۔ لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اس کے نتیجے میں حکومت کے مالیہ میں کمی ہو جائے گی (فإن الناس قد كثروا في الإسلام، خفت أن يقل اس کا جواب خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے ان الفاظ میں دیا: والله لو ددت أن الناس كلهم أسلموا، حتى نكون أنا وأنت حراثين نأكل من كسب أيدينا (سيرة عمر بن عبد العزيز، لابن الجوزي: 124) یعنی خدا کی قسم، مجھے یہ پسند ہے کہ سارے لوگ اسلام قبول کر لیں، یہاں تک کہ میں اور تم دونوں کاشت کار بن جائیں اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنا رزق حاصل کریں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کلام میں وضوح (clarity) کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ کلام میں وضوح کا
راز یہ ہے کہ صاحب کلام کے اندر وہ صفت موجود ہو جس کو قرآن میں فرقان (8:29) کہا گیا ہے، یعنی چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر کے دیکھنا۔ ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کر کے رائے قائم کرنا۔ اسی اصول تمیز(principle of differentiation) کا نام حکمت ہے اور اس حکمت کا حامل کوئی شخص جب کلام کرے تو اس کا ذہن فطری طور پر چیزوں کی مختلف نوعیت کو جان لیتا ہے اور اس کے مطابق، کلام کرتا ہے۔ جس کلام میں یہ صفت پائی جائے اس کے اندر لازمی طور پر وضوح موجود ہو گا۔ اس اعتبار سے، مذکورہ مثال پر غور کیجئے ۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ تھا کہ کثرت اسلام سے حکومت کا مالیہ کم ہو رہا تھا۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کا اصل مشن یہی تھا کہ لوگوں کو سچائی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے دونوں پہلوؤں کو الگ کر کے دیکھا، اس لیے وہ ایک واضح اور درست رائے تک پہنچ گئے۔
اس کے برعکس، ان کے دونوں گورنروں کا حال یہ تھا کہ وہ اس صلاحیتِ فرقان کا ثبوت نہ اس لیے انھوں نے ایک ایسی بات کہی جس میں وضوح موجود نہ تھا، اُن کے کلام میں مالیاتی پہلو کی اہمیت موجود تھی، لیکن اُن کے کلام میں دعوتی پہلو کی اہمیت مفقود ہوگئی تھی۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلام میں کس چیز کو اصل اہمیت حاصل ہے۔ یہی ہے کہ اپنے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کی جائے اور دوسروں کو اللہ کا پیغام پہنچایا جائے ۔ ریکارڈ کے مطابق، اسلام کی بعد کی تاریخ میں دوبارہ کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو اس حقیقت کا شعور رکھتا ہو اور کھلے طور پر اس کا اظہار کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو حدیث میں فتنة وہیماء کہا گیا ہے، اس کا زمانہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ بڑھتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی کامل صورت میں پوری مسلم امت کے درمیان چھا گیا۔