Al-Risala · August 2015

دین کی تعبیر میں اختلاف

Al-Risala, August 2015, pp. 22–24

By Maulana Wahiduddin Khan

فتنة وہیماء کیا ہے۔ فتنه وہیماء کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ فتنه وہیماء دراصل یہ ہے کہ قرآن کا

مرکزی مضمون لوگوں پر واضح نہ رہے اور لوگ اپنے اپنے مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت قرآن وسنت کی تشریح و تعبیر کرنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں افکار اور آرا کا اختلاف اتنا بڑھ جائے کہ اصل حقیقت اس کے اندر گم ہو جائے اور یہ معلوم کرنا سخت دشوار ہو جائے کہ وہ اصل دین کیا ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر کی طرف بھیجا تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تقریباً ایک سو سال بعد اسلام کی جو علمی تاریخ بنی، اس کے موضوعی مطالعہ (objective study) سے بخوبی طور پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔ عباسی دور میں یہ ہوا کہ دین کی اسپرٹ کے بجائے اس کے فارم کو لے کر ساری بحث فارم میں چوں کہ تعدد (diversity) تھا، اس لیے فطری طور پر لوگوں کی تعبیرات میں بھی تعدد پیدا ہو گیا۔ اس کے بعد متن (text) کو لے کر یہ بحثیں شروع ہوئیں کہ کسی لفظ کا کیا مفہوم ہے۔ الفاظ میں بھی ہمیشہ ایک سے زیادہ مفہوم کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے یہاں بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ معانی کا مفہوم متعین کرنے میں کثرت سے اختلافات پیدا ہو گئے ۔ اس طرح بعد کے زمانے میں دین کی مختلف تعبیرات کو لے کر الگ الگ گروہ بننے لگے، یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ میں، امت مسلمہ 73 فرقوں میں، بلکہ اُس سے زیادہ فرقوں میں تقسیم ہو گئی۔ اسی طرح سیاسی مفاد کے تحت لوگوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ۔ ہر فریق اپنے موقف کو قرآن وحدیث سے جائز ثابت کرنے لگا۔ صورت حال نے بھی تعبیرات دین میں اختلافات کا ایک جنگل پیدا کر دیا۔

بیسویں صدی عیسوی میں اس صورت حال میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ سیکولر نظام کے غلبے کے تحت مسلمانوں کے درمیان مختلف قسم کی تحریکیں برپا ہوئیں اور پریس کی طاقت کے تحت تیزی سے لوگوں کے درمیان پھیلیں۔ اس زمانی اثر کے تحت مسلمانوں کے درمیان بھی مختلف قسم کی تحریکیں اٹھیں اور مختلف قسم کے نظریات کی اشاعت ہونے لگی۔ اس طرح فکری اختلافات کا معاملہ اپنی کمیت کے اعتبار سے، بہت زیادہ بڑھ گیا۔ بیسویں صدی کے آخر میں فتنہ وہماء کا کلچر اپنی آخری انتہا تک پہنچ گیا۔ اب یہ حالت ہو گئی کہ اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ دین اسلام اپنی اصل حقیقت کے

اعتبار سے کیا ہے تو وہ یقین کے ساتھ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے گا۔

فتنہ دہیما یا ذہنی کنفیوزن کا یہ معاملہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر تیار ہو جو دینِ اسلام کو دوبارہ اس کے صحیح اسلوب میں بیان کرے، تب بھی عملاً وہ زیادہ مفید نہ ہوگا۔ صحیح لٹریچر کو عملی طور پر مفید بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران لکھی جانے والی کتابوں کو اسلام کے کتب خانے میں کلاسکل لٹریچر (classical literature) کی حیثیت سے محفوظ کر دیا اسلام کی شرح کے اعتبار سے، اس کی مستند حیثیت باقی نہ رہے۔

Printed page