مقصدِ تخلیق
Al-Risala, August 2015, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد کے دور میں جو فکری کنفیوزن (intellectual confusion) پیدا ہوا، اس کا اصل سبب یہ تھا کہ تعبیرات کے اختلاف کے درمیان یہ حقیقت گم ہوگئی کہ انسان کی تخلیق کا مقصد (purpose of life) کیا ہے۔ اس حالتِ انتشار کو ختم کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان کے مقصدِ تخلیق کو متعین کیا جائے ۔ مقصدِ تخلیق کے تعین کے بعد ایسا نہیں ہوگا کہ اختلافات کا عملاً خاتمہ ہو جائے ۔ جو واقعہ پیش آئے گا، وہ صرف یہ کہ اختلافات کی حیثیت ثانوی (secondary) بن جائے گی ۔ اور اختلافات کا ثانوی بن جانا ہی اس مسئلے کا عمومی حل ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوگا کہ لوگوں کا ذہنی فوکس بدل جائے گا۔ لوگوں کی ساری توجہ انسان کے اصل تخلیقی مقصد پر مرتکز ہو جائے گی۔
فوکس کے تعدد سے فکری انتشار پیدا ہوتا ہے اور فوکس کے تو حد سے فکری اتفاق وجود میں آتا ہے (5 جنوری 2014)
واٹس ایپ پر روزانہ مولانا وحیدالدین خاں کی حکمت اور نصیحت سے بھر پور مختصر گفتگو سننے کے لئے اپنا واٹس ایپ نمبر ذیل کے نمبر پر بھیجیں اور اس نمبر کو اپنے موبائل میں محفوظ (save) کر لیں: