Al-Risala · August 2015

صبر واِعراض کا اصول

Al-Risala, August 2015, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر شکایت کی نفسیات میں جی رہے ہیں، وہ دوسری قوموں کو غیر بلکہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کے مقررین و محررین ہمیشہ دوسروں کے خلاف شکایت کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو ان کا جواب ہوگا: Should you ignore Gujarat 2002, Assam, Muzaffarnagar, مگر اس معاملے میں قرآن کا جواب مختلف ہوگا، اور وہ یہ کہ آپ کو اس قسم کے منفی واقعات کو نظر انداز ہی کرنا ہے۔ آپ کو اپنے مفروضہ دشمن کی نام نہاد سازشوں کو بھلا کر اپنی زندگی کو مثبت بنیاد پر تعمیر کرنا ہے۔ قرآن میں اس طریقے کو صبر و اعراض کہا گیا ہے، اور صبر و اعراض کے بغیر کوئی قوم اس دنیا میں ہرگز ترقی نہیں کر سکتی۔

اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلَتَصْبِرُنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا (14:12) یعنی اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صبر ہی کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو آزادی اور مقابلہ (competition) کے اصول پر بنایا ہے۔ یہاں کوئی بھی نظام ہو، اور کسی کی بھی حکومت ہو، ہمیشہ ایک کو دوسرے سے کچھ نہ کچھ ایذاء (harm) کا تجربہ ہوگا۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے واقعات کو شکایت کا موضوع نہ بنائے بلکہ وہ اس کو مینیج (manage) کرنے کی تدبیر کرے۔ اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (آل عمران: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ اس کا مطلب ہے کہ فطرت کے نظام کے مطابق اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش (conspiracy) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی

صفت نہ پائی جائے ۔ اس لئے سازش کے خلاف شکایت کرنا مکمل طور پر ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کی جائے تا کہ سازش کرنے والوں کی سازش عملاً مؤثر نہ ہو سکے۔

قرآن کی تعلیمات کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو یہ بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اس تخلیقی منصوبہ کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی سرگرمیوں کا نقشہ بنائے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبہ کو نظر انداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سے بڑا اصول ہے۔ قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔ اس حکمت ابتلا کی بنا پر، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اس سے فطری طور پر دنیا میں چیلنج اور مسابقت (competition) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

چیلنج اور مسابقت کا یہ ماحول لازماً دنیا میں رہے گا۔ اس بنا پر یہاں لازماً ایسا ہوگا کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطلوب صورت حال (unwanted situation) کا سامنا پیش آئے گا۔ اس صورت حال کے خلاف شکایت کرنا بھی بے فائدہ ہے، اور اس سے لڑنا بھی بے فائدہ ۔ طریقہ یہ ہے کہ آدمی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔ خالق کے قائم کردہ نظام کے مطابق اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد اصول ہے۔

اسی حکیمانہ روش کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر و اعراض دانش مندانہ طریق زندگی کا دوسرا نام صبر و اعراض اپنی حقیقت کے اعتبار سے اقدام ہے، اگرچہ نادان لوگ اس کو پسپائی سمجھ لیتے صبر و اعراض اعلیٰ انسانی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔

Printed page