ٹیم کی تربیت
Al-Risala, August 2015, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں حضرت ابو بکر کو نماز با جماعت کا امام ایک روایت کے مطابق آپ نے 17 بار ایسا کیا ، اور دوسری روایت کے مطابق آپ نے 20 بار ایسا کیا (البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: 5/235، دارالفکر، بیروت، 1978)۔ یہ فضیلت ابو بکر کا معاملہ نہ بلکہ یہ حکمت کی ایک بات تھی۔ اس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے۔ اس کا انطباق (application) پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی ہوتا ہے، اور اسی طرح غیر پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ اور فطرت کا قانون ہمیشہ آفاقی
کسی مشن کا جو بانی ہوتا ہے، وہ فطری طور پر اس کا قائد (leader) بن جاتا ہے۔ اگر یہ قائد اچانک دنیا سے چلا جائے تو مشن کے اندر ایک ناقابلِ تلافی خلا ہو جائے گا۔ لوگ محسوس کریں گے کہ ٹیم بے قائد (leaderless) ہو گئی ہے۔ اس لیے قائد کو چاہیے کہ وہ اپنے آخری زمانے میں خاموشی کے ساتھ اس پہلو سے ٹیم کی تربیت کرے۔ وہ ٹیم کو اس قابل بنائے کہ قائد جب درمیان سے ہٹ جائے تو ٹیم کی اجتماعیت میں کوئی کمزوری نہ پیدا ہو۔ مشن کی سرگرمیاں قائد کے بعد بھی بدستور اسی طرح جاری رہیں، جس طرح وہ قائد کی موجودگی میں جاری تھیں۔
دانش مند قائد کو چاہیے کہ وہ اپنی موجودگی میں اس اعتبار سے ٹیم کو تیار کرے۔ وہ ٹیم کو بار بار یہ موقع دے کہ وہ قائد کی مقامی غیر موجودگی کے باوجود مشن کی سرگرمیوں کو انجام دے سکے۔ بالواسطہ قیادت کا طریقہ ہے۔ قائد اگر ٹیم کے درمیان موجود ہو تو وہ براہِ راست طور پر اس کی قیادت اگر وہ ٹیم کے درمیان موجود نہیں ہے تو گویا کہ وہ بالواسطہ طور پر ٹیم کی قیادت کر رہا ہے۔ ایک حکیمانہ طریقہ ہے۔ قائد اور ٹیم دونوں کو اس حکمت سے باخبر ہونا چاہئے۔ تربیت ایک شعوری واقعہ کا نام ہے، بے شعوری کے ساتھ کسی ٹیم کی تربیت نہیں ہو سکتی۔
دعوت کی ذمے داری ایک صاحب برطانیہ سے اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں :
آج میں نے مئی 2015 کا اردو رسالہ انٹرنیٹ پر پڑھنا شروع کیا تو میری نظر ایک مضمون "مدعو دائی کے دروازے پر (صفحہ 11) پر پڑی ۔ یہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آ گیا جو آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ تین سال پہلے مجھے اپنے چند دوستوں کے ساتھ یونان کے ایک شہر کوس (Kos) کی سیاحت کا موقع ملا۔ کوس میں ہم لوگوں کو ایک تاریخی مسجد دکھائی دی تو نماز کے ارادے سے ہم لوگ اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں کافی تعداد میں غیر مسلم مسجد کی وزٹ کے لیے داخل ہو رہے ہیں۔ پھر ادھر ادھر کچھ دیکھ کر نکل جاتے ہیں۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ مسجد کے امام صاحب وہاں بیٹھے قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں اور ان کو اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ کون آیا کون مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ غیر مسلم خود یہاں آتے ہیں لیکن ہم اپنی بے شعوری کی بنا پر ان کو کچھ پیش نہیں کر پاتے۔ میں اکثر یہ واقعہ یاد کر کے دکھی ہوتا ہوں اور آج پھر آپ کا مضمون پڑھ کر مجھے پورا منظر یاد آ گیا۔ مسلمان اس کو سمجھ سکتے اور اپنی دعوتی ذمے داری کو ادا کرتے۔
یہ صرف ایک شہر کی بات نہیں ہے۔ یہی معاملہ پوری دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان تقریباً ہر ملک میں بسے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ بڑی تعداد میں سیاح (tourist) آتے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی دعوتی ذمے داری کو ادا کریں، اور اللہ کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچائیں۔
اس دعوتی ذمے داری کو ادا کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر اپنے بیگ میں رکھے۔ ہر بار جب اس کا سامنا کسی انسان سے ہو تو وہ اس کو قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر پیش کرے۔ اس معاملے میں اسلامی لٹریچر کی حیثیت سپورٹنگ لٹریچر کی ہے۔