Al-Risala · August 2015

فطرت کا ایک قانون

Al-Risala, August 2015, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 43 میں فطرت کا ایک قانون بیان کیا گیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (الزخرف: 32) کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ان کی روزی کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تا کہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔ تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق میں یکسانیت (uniformity) نہیں رکھی گئی ہے۔ بلکہ انسانوں کی تخلیق تفاوت (disparity) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یعنی کسی انسان کے اندر ایک خصوصیت، اور دوسرے انسان کے اندر دوسری خصوصیت۔ اس تفاوت کی ایک حکمت ہے۔ تفاوت کا مقصد دنیا میں انسان کی اجتماعی زندگی کو باہمی انحصار (interdependence) کے اصول پر قائم کرنا ہے۔ یعنی ایک کا کام دوسرے پر منحصر ہونا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ لوگ اجتماعی زندگی میں مل جل کر رہیں ۔ لوگ ایک دوسرے کے رقیب (rival) نہ بنیں، بلکہ وہ ایک دوسرے کے معاون (supporter) بن کر زندگی گزاریں۔

باہمی انحصار کا یہ معاملہ کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ وہ زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ اس میں سیاست اور حکومت بھی شامل ہے۔ ایسی حالت میں سیاسی اپوزیشن (political opposition) کی پالیسی فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ اس کے بجائے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ سیاسی معاونت (political cooperation) کا مزاج۔ یعنی اگر ایک شخص کو پولیٹیکل اتھارٹی کا درجہ حاصل ہوتا ہے تو دوسرے لوگ اس سے اس کی اتھارٹی کو چھیننے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اس کی اتھارٹی کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کریں، نہ کہ رقابت کا معاملہ۔

Printed page