Heaven and Hell are states, not localities.
Al-Risala, August 2015, pp. 37–40
By Maulana Wahiduddin Khan
اقبال کے اس بیان میں ایک فطری حقیقت کو فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک عدم مطابقت کا معاملہ ہے۔ اسی عدم مطابقت نے اقبال کے بیان میں کنفیوزن پیدا کر دیا۔ اس نوعیت کی ایک اور مثال حال میں سامنے آئی ہے۔ ایک معاصر مسلم دانشور، جنھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بخوبی دستگاہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیان کے مطابق ستر سال سے زیادہ مدت تک اسلامیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ایک سیمینار میں انھوں نے اس موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ ایک مسلم میگزین میں چھپا ہے۔ اور اس کا عنوان یہ ہے: علم: اسلامائزیشن سے تخلیق کی طرف یہ عنوان بالکل غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح اس مقالے کے بیانات میں بھی وضوح (clarity) موجود نہیں۔ میں نے کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو ان کا مقالہ پڑھوایا اور پوچھا کہ اس کا خلاصہ کیا
ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ ہم کو اس میں کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ مصنف نے اپنے اس مقالے میں کہا ہے کہ آج ہم کو تخلیقِ علم (knowledge creation) کی ضرورت ہے۔ لیکن پورے مقالے میں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے نزدیک تخلیقِ علم کی تعریف (definition) کیا ہے۔ قاری پورے مقالے کو اس طرح پڑھتا ہے کہ اس میں ’’تخلیقِ علم‘‘ کا لفظ تو بار بار استعمال ہوا ہے، لیکن قاری کو نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کا واقعی مفہوم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقِ علم کوئی معروف اصطلاح نہیں۔ جاپان کے ایک شخص نے غالباً پہلی بار تخلیقِ علم کی اصطلاح وضع کی ۔ وہ اس کو کمپنی کے معاملات کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن خود اس جاپانی شخص کے ذہن میں بظاہر اس اصطلاح کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ چنانچہ یہ اصطلاح اپنے عدم وضوع کی بنا پر عمومی طور پر مقبول نہ ہوسکی۔ اس موضوع پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی جدید وضاحت کے لیے جو کام مطلوب ہے، وہ نہ ’’ری کانسٹرکشن‘‘ کا کام ہے اور نہ ’’تخلیقِ علم‘‘ کا کام۔ یہ وہی کام ہے جس کے لیے حدیث میں اجتہاد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے آج جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہی اجتہاد ہے، نہ کہ ری کانسٹرکشن اور تخلیقِ علم۔ اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد دراصل تطبیقِ نو (reapplication) کا دوسرا نام ہے۔ حدیث میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے زمانی ہیں، لیکن تطبیق کے اعتبار سے وہ اس حقیقت کو دریافت کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں قرآن سے کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں:
قرآن کی سورہ العنکبوت میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (6:11) قرآن کی اس آیت میں ’’سیر فی الأرض‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ آیت ساتویں صدی کے نصف اول میں اتری، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ نہیں آیا تھا۔ اسی طرح اس وقت قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کے بارے میں کتابیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔ اب یہ سب کچھ
ہو چکا ہے۔ اس لیے قرآن کی اس آیت کی تفسیر اس طرح کی جائے گی کہ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرو اور اس سے سبق حاصل کرو۔ اس مطالعے سے معلوم ہوگا کہ ہر قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہے، یہ تاریخی ظاہرۃ اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ کو کنٹرول کرنے والا انسان نہیں، بلکہ ایک اور بالا تر عامل ہے جو انسانی تاریخ کو کنٹرول کر رہا ہے۔
اسی طرح قرآن کی ایک اور آیت یہ ہے: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) یعنی اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔ قرآن کی اس آیت میں جو اصول اختیار کیا گیا ہے، اس کا ایک مفہوم وہ ہے جو آیت کے زمانہ نزول کے اعتبار سے ہے۔ اسی کے ساتھ اس آیت کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے۔ اس وسیع تر مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن کی اس آیت کے الفاظ موجودہ حالات کے اعتبار سے پوری طرح قابلِ انطبا ق (applicable) ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہ آیت میں خیل، بغال، حمیر کے الفاظ علامتی طور پر قدیم زمانے کے ورلڈ آف نیچر (world of nature) کو بتاتے ہیں۔ يخلق مالا تعلمون کے الفاظ بعد کے زمانے میں ظہور میں آنے والے ورلڈ آف ٹکنالوجی (world of technology) کو بتا رہے ہیں۔
موجودہ زمانہ میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان میں متفقہ طور پر، سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جس کو ماحولیاتی مسئلہ (ecological problem) کہا جاتا ہے۔ بے شمار دماغ اس مسئلہ پر کام کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک اس کا حل در یافت نہ ہو سکا ۔ قرآن میں اس سلسلہ میں ایک آیت موجود ہے جو بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں صحیح طرز فکر (right way of thinking) کیا ہے۔ قرآن کی سورہ الروم میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (30:41)۔ اس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دورِ صنعت کے اس ظاہرۃ کا ذکر ہے
جس کو صنعتی کثافت (industrial pollution) کہا جاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ فضا اور سمندر دونوں مہلک آلودگی (harmful pollution) کا کیس بن گئے ہیں۔
قرآن کی آیت کے مطابق یہ مسئلہ تمام تر انسانی ساخت کا مسئلہ (man-made problem) لعلھم یرجعون کا لفظ بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ انسان فطری طرز زندگی (natural lifestyle) کی طرف واپس جائے جس کو چھوڑنے کی وجہ سے یہ مسئلے پیدا ہوئے ہیں ۔