اجتہاد ایک ضرورت
Al-Risala, August 2015, pp. 40–42
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتہاد اصلاً کوئی زمانی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ایک فطری ضرورت ہے۔ چنانچہ خود رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں بار بار اجتہاد کا عمل کیا گیا۔ اسی طرح آج بھی اجتہاد کیا جائے گا۔ کے عمل کے لئے نہ کسی نئی اصطلاح کی ضرورت ہے اور نہ کسی نئے منہج کو وضع کرنے کی ضرورت۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئی ہیں۔ سے جو کتاب کسی معلوماتی موضوع پر ہوتی ہے وہ تو قاری کے لئے قابل فہم ہوتی ہے۔ لیکن جو کتابیں اسلام کی توضیح و تعبیر کے موضوع پر لکھی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب کنفیوزن کا شکار ہیں۔ قاری ان کتابوں کو پڑھتا ہے لیکن وہ اس طرح ان کو ختم کرتا ہے کہ ان کے ذریعہ قاری کو کوئی بصیرت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کنفیوزن کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تمام حضرات اپنے تجزیہ (analysis) میں ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے کے اصول (principle of differentiation) نہیں وہ اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر سوچتے ہیں اور اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر لکھتے ہیں۔ اس اصول کو قرآن میں فرقان (8:29) کہا گیا ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مقرر اور محرر فرقان کی حکمت سے بے خبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر اور تحریر میں ہمیشہ کنفیوزن رہتا ہے۔ مثلاً تفکیر کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے مبنی بر قلب مراقبہ (heart-based meditation) اور مبنی بر ذہن تفکیر (mind-based contemplation) کے فرق کو نہ سمجھنا۔
کی اصلاح اور سماجی نظام (social system) کی تعمیر کے درمیان فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ مسائل دنیا اور مسائل آخرت کے تقاضوں کے درمیان جونوعی فرق ہے، اس کو سمجھے بغیر اس موضوع پر اظہارِ خیال طبیعیاتی سائنس کے موضوع اور انسانیات (humanities) کے موضوع کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اس سے گہری واقفیت کے بغیر ان موضوعات پر لکھنا اور بولنا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ فرقان (principle of differentiation) کو نہ جانتے ہوں ان کو صرف معلوماتی موضوع پر لکھنا اور بولنا چاہئے۔ ان کو ہرگز تفکیری موضوع پر کلام نہیں کرنا ایسا کر کے وہ اپنے قاری کو صرف کنفیوزن دیں گے وہ اپنے قاری کو واضح رہنمائی دینے سے قاصر رہیں گے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ مسلم دانشور کا مسئلہ بھی وہی ہے جو ان سے پہلے ڈاکٹر محمد اقبال کا مسئلہ تھا۔ دونوں ایک ہی مسئلہ کا شکار ہوئے۔ یعنی اپنے خود ساختہ ماڈل کی بنا پر مسئلہ کو غلط رخ (wrong angle) سے دیکھنا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے انسان ساز فلسفیانہ ماڈل کو لے کر اسلام کو سمجھنا چاہا جو اصلاً فطرت خداوندی پر مبنی تھا۔ اس عدم مطابقت کی بنا پر ڈاکٹر محمد اقبال اس مسئلہ کی صحیح تشریح و تعبیر کرنے میں ناکام رہے۔
مذکورہ مسلم دانشور کا کیس یہ ہے کہ وہ اصلاً علم اقتصادیات (economics) کے آدمی ہیں۔ اقتصادیات کا علم انسانی زندگی کے نظامی پہلو (infrastructural aspect) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دوبارہ ایک انسان ساز علم ہے۔ اس بنا پر مذکورہ مسلم دانشور کا ذہن مبنی بر نظام ذہن بن گیا۔ کی تعبیر اپنے نظامی ماڈل کی روشنی میں کرنے لگے۔ جب کہ اسلام کا ماڈل مختلف تھا۔ علم الاقتصاد کے تحت جو ماڈل بنتا ہے، وہ مبنی بر نظام ماڈل (system-based model) ہے، جب کہ اسلام ایک مبنی بر فرد مذہب ہے۔ اسلام کا ماڈل مبنی بر فرد ماڈل (individual-based model) ہے۔ مطابقت کی بنا پر مذکورہ مسلم دانشور اس مسئلہ کی صحیح تعبیر وتشریح میں ناکام رہے۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ مذکورہ مسلم دانشور نے لکھا ہے کہ نیورو سائنس (neuroscience) کے نئے ابھرتے ہوئے ماہرین شاید اس معاملہ میں ہماری مدد کر سکیں ۔
ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کا غ متعلق (irrelevant) نہ ہو۔ نئی سائنس کا نہرو ہو کہ آئنسٹائن، با ریف نیست کلا ہی کے باسی ں یاسر کا (explanation) ے ؟ یاسر کا (explanation) ے ؟ انسان کے اعصابی نظام کے سائنسی مطالعہ کا نام ہے:
"Neuroscience is the scientific study of the nervous system"
زیدہ کے مسئلہ کا تعلق مسائل حیات کا توجیہ (explanation) سے ۔
اور ایک معلوم زیر بحث مسئلہ کا تعلق مسائل حیات کی توجیہہ (explanation) سے ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ سائنس کا کام توجیہہ کرنا نہیں ہے بلکہ صرف فطرت کے عمل کو دریافت کرنا ہے : Neuroscience deals with the functioning of the mind. زیر بحث مسئلہ سے انسانی ذہن کا تعلق واضح ہے لیکن یہاں جو مسئلہ ہے وہ مائنڈ کے فکری انطباق کا مسئلہ ہے نہ یہ کہ ذہن فزیکل معنوں میں کس طرح عمل کرتا ہے۔ مذکورہ مسلم دانشور کے مقالہ میں کنفیوزن کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تعلیم کے زمانے میں موصوف کا سبجیکٹ معاشیات (economics) تھا۔ انھوں نے اسی سبجیکٹ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی پوری زندگی اسی سبجیکٹ کا مطالعہ کرتے رہے۔ جیسا کہ معلوم ہے معاشیات ایک ایسا سبجیکٹ ہے جس میں نظام (system) کے پہلو سے زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ہوا کہ موصوف کے ذہن میں نظامی ماڈل (system-based model) بن گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر نظامی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھنے لگے۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے اسی ذاتی شاکلہ کی بنیاد پر اسلام کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے چاہا کہ وہ اسلام کو ایک نظامی ماڈل (system-based model) میں ڈھال دیں۔ مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ اسلام ایک مبنی بر فرد ماڈل تھا، نہ کہ مبنی بر نظام ماڈل۔ اس فرق کو نہ جاننے کی بنا پر ان کے یہ س ہے، یہ ش ہے، یہ ص ہے، یہ ظ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بڑا کنفیوژن پیدا ہوگیا۔ افکار میں کنفیوژن پیدا ہوگیا۔