Al-Risala · September 2015
غم کے بجائے دعا
Al-Risala, September 2015, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک پیغمبر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے مصیبت کے وقت کہا: اِنَّمَا أَشْکُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (12:86) یعنی پیغمبر نے کہا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔ پیغمبر کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ مومن کے لیے مصیبت کے وقت صحیح رویہ کیا ہے ۔ یہ کہ وہ مصیبت کے وقت غم کرنے کے بجائے دعا کرے، وہ مسئلہ کو اللہ کے خانے میں ڈال دے۔
یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ مسئلہ کو اپنے اوپر لینے سے غم کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس، جب مسئلہ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کر دیا جائے تو اس وقت آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوتی ہے، جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ میں نے اپنے معاملے کو تیرے حوالے کر دیا تو ہی اس معاملے کے پہلووں کو بہتر جانتا ہے: