نبی امی
Al-Risala, September 2015, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اُمّی ہونے کا مطلب لوگ unlettered لیتے ہیں۔ مگر یہ ناکافی ہے۔ رسول اللہ کے بارے میں آتا ہے: کان طویل الصمت (مسند احمد: 20810)۔ یعنی آپ دیر تک چپ رہتے مگر یہ چپ رہنا صرف چپ رہنا نہیں تھا۔ کیوں کہ ایک حدیث میں ہے کہ مجھ کو 9 باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ہے: أن يكون صمتي فكراً (جامع الاصول: 9317)۔ خاموشی سوچنا ہو۔ اسی طرح ایک صحابی آپ کے بارے میں کہتے ہیں: متواصل الاحزان دائم الفکرة (المعجم الکبیر: 414)۔ اسی طرح نبوت سے پہلے آپ کا معمول تھا کہ آپ غار حرا میں جاتے اور وہاں کئی دن تک ٹھہرتے۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ وہاں بھی آپ اپنا وقت غور و فکر میں گزارتے اس قسم کی روایتوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امی (unlettered) اس معنی میں تھے کہ آپ لکھی ہوئی چیز پڑھ نہیں سکتے تھے۔ لیکن آپ کا تدبر اور غور و فکر ہر وقت جاری رہتا تھا۔ تخلیقی فکر (creative thinking) کے اعتبار سے آپ اعلیٰ ترین سطح پر تھے۔
کتاب کے مطالعہ سے آپ کو انفارمیشن ملتی ہے۔ مگر غور و فکر کرنے سے تخلیقی فکر آتی ہے۔ غور و فکر کے ذریعہ آدمی معلومات کا تجربہ کرتا ہے۔ غور و فکر کے درمیان اس کی ذہنی صلاحیت ارتقا کرتی غور و فکر کے ذریعہ آدمی کا potential ان فولڈ (unfold) ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ پیغمبر اسلام منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح محفوظ تھے۔ یہ صفت بھی آپ کے لئے ذہنی ارتقا کا ذریعہ تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ مجھے قرآن دیا گیا و مثلہ معه (مسند احمد: یہ قرآن کے ساتھ مثل قرآن کیا ہے۔ یہ تدبر اور تفکر کے ذریعہ ذہنی ارتقا ہے۔ رسول اللہ کا کیس، ریموٹ کنٹرول کا کیس نہیں تھا۔ رسول کا اُمّی ہونا بھی ایک سنت ہے۔ یعنی مطالعہ کتاب کے علاوہ دوسرے ذرائع سے اپنا ذہنی ارتقا کرنا۔ مطالعہ کتب سے آدمی اگر ایک فی صد جانتا ہے تو تدبر اور تفکر کے ذریعہ 99 فی صد۔ اُمّی پلس ہونا ایک پازیٹیو کوالٹی (positive quality) ہے۔