عمل بقدر استطاعت
Al-Risala, January 2015, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ التغابن میں ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْراً لِأَنْفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (64:16) یعنی پس تم اللہ سے ڈرو جہاں تک ہو سکے، اور سنو اور مانو اور خرچ کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اور جو شخص دل کی تنگی سے محفوظ رہا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ عمل بقدر استطاعت کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ زندگی کا یہی واحد فطری انسان جب دنیا میں کوئی عمل کرنا چاہتا ہے تو یہ ہمیشہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہی کر سکتا ہے، جتنا خارجی حالات اس سے موافقت کریں۔ خارجی حالات کی موافقت کے بغیر کوئی شخص کوئی کام نہیں کر سکتا۔
اپنی ذات के لیے آدمی صدفی صد کی اصطلاح (term) میں سوچ سکتا ہے، لیکن جب معاملہ سماج کا ہو تو عملاً یہ ممکن نہیں ہوتا کہ آدمی صدفی صد کو اپنا نشانہ بنائے۔ اس لیے اس دنیا کے لیے فطری اصول یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسند بنے اور سماج کے معاملے میں عملی امکان کے مطابق منصوبہ بنائیے۔
Idealism at individual level, Pragmatism at social level. اپنی ذات کے معاملے میں آدمی کو خود سوچنا ہے، اور خود ہی اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا اس لیے انفرادی معاملے میں معیار پسندی ممکن ہوتی ہے، مگر جب معاملہ سماجی یا اجتماعی ہو تو کسی کے لیے اتنا ہی کام کرنا ممکن ہوتا ہے، جتنا دوسرے لوگ اس سے موافقت کریں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جب معاملہ سماج کا ہو تو آدمی پریگمیٹک (pragmatic) بن جائے۔ اس کے خلاف کرنے کا نتیجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے مقصد تو حاصل نہ ہو، البتہ لوگوں کے اندر ایسا ٹکراؤ شروع ہو جائے جو کبھی ختم نہ ہو سکے۔