Al-Risala · September 2015

واما السائل فلا تنهر

Al-Risala, September 2015, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 93 میں یہ آیت آئی ہے: وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ - وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (الضحی: 11-10)۔ اس آیت میں سائل کا لفظ آیا ہے۔ سائل کے معنی ہیں سوال کرنے والا۔ یہاں سائل سے مراد پیسہ مانگنے والا نہیں ہے۔ بلکہ سائل سے مراد وہ شخص ہے جو سچائی کے بارے میں یہاں سائل سے مراد وہ انسان ہے جس کو متلاشی (seeker) کہا جاتا ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔ یہ آیت سائل کے مطلب کو واضح کر دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ طالب حق سے پوری خیرخواہی کے ساتھ ملو۔ طالب حق کے ساتھ ہمدردی کا طریقہ اختیار کرو۔ طالب حق کو دین کی تعلیم اور دین کی حکمت بیان کرو۔ طالب حق سے اس انداز میں گفتگو کرو جو اس کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قرآن کی یہ آیت حکیمانہ دعوت کی اہمیت کو

جب کوئی حق کا متلاشی آپ کے پاس آئے تو وہ ایسے سوالات کر سکتا ہے، جو آپ کے لیے نامانوس سوالات ہوں۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ سائل کی بات سنجیدگی کے ساتھ سنے اور خیرخواہی کے ساتھ اس کا جواب دے۔ وہ سائل کو حقیر نہ سمجھے، وہ سائل کے ساتھ رحم دلی کا سلوک اور اگر وہ خود جواب دینے کی پوزیشن میں نہ تو وہ اس کو مشورہ دے کہ تم فلاں فلاں کتاب کا اسی کے ساتھ آدمی کو چاہیے کہ وہ خود سائل کے لیے دعا کرے۔ اور سائل کو بھی بتائے کہ سوال کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ اگر آپ کے پاس سچائی ہے تو وہ آپ کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ آپ کی ذمے داری ہے کہ آپ اس امانت کو اللہ کے بندوں تک پہنچائیں ۔ آپ کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ آپ سائل کو کچھ نہ کچھ جواب دے دیں۔ بلکہ آپ کا جواب ایسا ہونا چاہیے جو سائل کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا سوال کرنا بھی ذمے داری ہے، اور سوال کا جواب دینا بھی ذمے داری ہے۔

Printed page