Al-Risala · September 2015

عاجلانہ اقدام، صابرانہ منصوبہ بندی

Al-Risala, September 2015, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: التأنّي من الله، والعجلة من الشيطان (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: 4058)۔ یعنی غور وفکر کرنا اللہ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی کرنا شیطان کی طرف سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی معاملہ پیش آنے پر انسان تانی کا طریقہ اختیار کرے، اور غور وفکر کر کے اپنی روش متعین کرے تو وہ اللہ کی نصرت کے تحت ہوتا ہے، اور اگر وہ معاملہ پیش آنے کے وقت رد عمل کا طریقہ یا جلد بازی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کا عمل شیطان کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ طرح طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ پر انسان کے لیے رسپانس (response) کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے عاجلانہ اقدام کا طریقہ۔ طریقہ ہمیشہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی پہلے ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سوچے، پھر حالات کا جائزہ لے کر اپنے عمل کا رخ متعین کرے۔ یہ صابرانہ منصوبہ بندی کا طریقہ ہے۔ طریقے میں انسان کو اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے، اور وہ کامیابی کی منزل تک پہنچتا ہے۔ آدمی کو اس کے خالق نے سوچنے کی صلاحیت دی ہے۔ آدمی سوچ کر کسی چیز کے لیے مثبت اور منفی پہلو کو جان سکتا ہے۔ وہ یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کسی عمل کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے خدا داد ذہن کو اپنی حالت پر قائم رکھے، وہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ تمام پہلوؤں پر غور کرے تو یقینا وہ جان لے گا کہ اس وقت مجھے کیا کرنا ہے، اور کیا نہیں کرنا ہے۔ کو اللہ کی مدد حاصل ہوگی، اور وہ اللہ کی مدد سے کامیاب ہو جائے گا۔

اس کے برعکس کیس اس انسان کا ہے، جس کے ساتھ کوئی ناموافق معاملہ پیش آئے تو وہ بھڑک اٹھے، وہ جذباتی رد عمل کے تحت جوابی کارروائی شروع کر دے۔ ایسا آدمی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اس کی کارروائی میں حالات کا اندازہ شامل نہ ہوگا۔ ایسے انسان کو فطرت کے نظام کی تائید حاصل نہ ہوگی۔

Printed page