Al-Risala · September 2015

فساد کی برائی

Al-Risala, September 2015, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ایک اجتماعی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (2:205)۔ جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتوں اور نسل کو ہلاک حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انسان یا کوئی گروہ اگر سماج میں ایسی سرگرمی جاری کرے جس کے نتیجے میں لوگ قتل کیے جائیں اور لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں تو یہ ایک ایسا فعل ہے جو اللہ کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے۔ ایسی کسی سرگرمی پر اللہ کی مدد نہیں آسکتی۔ ایسی سرگرمی کرنے والے لوگ اللہ کے غضب کے مستحق ہیں، ان کو اللہ کی مدد ہر گز ملنے والی نہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں تباہی کی تاریخ بنائیں گے نہ کہ تعمیر کی تاریخ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اجتماعی سرگرمی میں صحیح اور غلط کا معیار کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں وہی سرگرمی درست ہے، جو سماج میں مثبت قدروں (positive values) کو فروغ دے، جس سے لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوں، جس سے سماج کے ہر طبقے کو فائدہ اس کے برعکس، جو سماجی سرگرمی سماج کے اندر نفرت اور تشدد پیدا کرے، جس سے لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں۔ ایسی سرگرمی بلاشبہ اللہ کے نزدیک صرف برائی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی زندگی میں کسی سرگرمی کا معیار، اس کا نتیجہ لیڈر کے اوپر فرض ہے کہ اگر وہ دیکھے کہ اس کی سرگرمی سے برا نتیجہ نکل رہا ہے، لوگوں کی معاشیات تباہ ہو رہی ہیں، اور لوگ قتل کیے جا رہے ہیں، تو فوراً اس کو اعلان کرنا چاہیے کہ ہماری سرگرمی اللہ کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔ ہم اس کو فورا ختم کرتے ہیں، اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہماری غلطی کے لیے ہم کو معاف فرمائے۔

Printed page