Al-Risala · September 2015

ایک سنتِ رسول

Al-Risala, September 2015, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب جو ایک ٹاؤن میں رہتے ہیں، وہ دہلی آکر مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مشن سے اتفاق کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے مقام پر چلیں، وہاں دو دن ہم وہاں آپ کی تقریر کرائیں گے، اس کے علاوہ لوگ آپ سے ملاقات کریں گے اور ہمارے یہاں کام بڑھے گا۔

میں نے کہا کہ روایتی طور پر آپ لوگ کام کا ایک ہی پیٹرن جانتے ہیں، اور وہ ہے کسی عالم یا کسی بزرگ کو اپنے یہاں لے جانا، اور چند دن ان کو اپنے مقام پر ٹھہرا کر تقریراور ملاقات کا پروگرام عام زبان میں اس کو دورہ کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ مفید بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ اس معاملے میں ایک سنتِ رسول کو زندہ کریں۔ پھر میں نے کہا کہ رسول اللہ کی زندگی کے واقعات، سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں جو پیٹرن ملتا ہے وہ دورہ والا پیٹرن نہیں ہے۔ اس کا پیٹرن یہ ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آتا ہے، وہ آپ کی باتیں سنتا ہے اور قرآن کو سن کر اس کو یاد پھر وہ اپنے مقام پر واپس جاتا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو وہ قرآن سناتا ہے اور رسول اللہ سے سیکھی ہوئی باتوں کو بتاتا ہے۔

اسی پیٹرن سے اس زمانہ میں رسول اللہ کا مشن پورے عرب میں پھیل گیا۔ دعوت کے اس پیٹرن کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تا کہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔ پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں اس پیٹرن کو زیادہ بڑے پیمانہ پر استعمال کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ آپ اس پیٹرن کی اہمیت کو سمجھئے اور اس کے مطابق کام پھر پھر میں نے کہا کہ ہم اس پیٹرن کو موجودہ زمانہ میں زندہ کر رہے ہیں۔ ہم قرآن کا ترجمہ مختلف

زبانوں میں تیار کر کے چھاپ رہے ہیں۔ آپ قرآن کے ان ترجموں کو ہر جگہ لوگوں کے درمیان اس کے علاوہ ہم نے جدید ضرورت کے مطابق بڑی تعداد میں اسلامی کتابیں تیار کی ہیں۔ یہ گویا سپورٹنگ لٹریچر ہے۔ آپ ان مطبوعہ کتابوں کو ہر جگہ آسانی کے ساتھ پھیلا سکتے ہیں۔ کا پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ اس طریقہ کو استعمال کر کے آپ مشن میں اپنا حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ اس پیغمبرانہ طریقے میں مزید بہت سے فائدے ہیں۔ ایک بڑا فائدہ وہ ہے جس کو ذاتی شرکت (personal involvement) کہا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں یہ ہوگا کہ آپ منصوبہ بندی (planning) کریں گے۔ آپ لوگوں سے ملیں گے۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا انٹرا ایکشن ہوگا۔ آپ کو نئے نئے تجربات پیش آئیں گے۔ آپ کی دعوہ اسپرٹ میں اضافہ ہوگا۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا تعلق بڑھے گا۔ آپ حالات سے باخبر ہوتے چلے جائیں گے۔ آپ کا دعوتی کام تنظیم (organization) کی صورت اختیار کرلے گا۔

اس طریقے میں بہت زیادہ فائدے ہیں۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کو مختلف قسم کے تجربات پیش آتے ہیں جو آپ کی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ آپ کے ساتھ ایسے مواقع پیش آتے ہیں جو آپ کے اندر دعوت کی کیفیت کو ابھارتے ہیں۔ حالات کے تقاضے کے تحت، آپ محسوس کرتے ہیں کہ مجھے اپنا مطالعہ بڑھانا چاہیے۔ اس عمل کے دوران، آپ انسان کی رعایت کرنا سیکھتے ہیں۔ آپ جب ایک عالم یا ایک بزرگ کو بلا کر ان سے تقریر کرواتے ہیں تو وہ صرف ایک کام ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ مذکورہ پیغمبرانہ سنت پر عمل کریں تو آپ کا دعوتی کام ہزار پہلوؤں والا کام بن جائے گا۔ پیغمبرانہ سنت کے مطابق عمل کرنے سے آپ کے عمل کا فائدہ دگنا ہو جاتا ہے۔ وہ آپ کے لیے بھی مفید ہوتا ہے، اور مدعو کے لیے بھی۔ آپ کے لیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ کے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں اضافہ ہوتا ہے۔ مدعو کے لیے یہ فائدہ کہ وہ زیادہ بہتر طور پر مشن کے بارے میں واقفیت حاصل کرتا ہے، وہ زیادہ غور و فکر کے ساتھ مشن کے بارے اپنے رویے کا تعین کرتا ہے۔

Printed page