جنت کی دنیا
Al-Risala, September 2015, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 35 میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت کی زندگی کا تجربہ کریں گے تو اس کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں گے: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو درد اور غم سے مکمل طور پر خالی ہوگی۔
اہل جنت کا یہ کلمہ، ایک بہت معنی خیز کلمہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دنیا ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لئے خوشیوں کی دنیا بن سکتی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جو حزن (pain) سے خالی ہو۔ بے حد حساس مخلوق ہے۔ حزن کا معمولی سا تجربہ بھی انسان کو بے چین کر دیتا ہے۔ انسان کو رہنے کے لئے ایک ایسا محل مل جائے جس میں بظاہر آرام کے تمام سامان موجود ہوں لیکن اسی کے ساتھ اس میں رہنے والے انسان کو کوئی حزن لاحق ہو۔ مثلاً، اس کے ایک دانت میں درد پیدا ہو جائے تو انسان اتنا بے چین ہو جائے گا کہ محل میں موجود آرام و راحت کے تمام سامان اس کے لئے بے معنی ہو جائیں گے۔ جیسی مخلوق کے لئے صرف وہ دنیا خوشی کی دنیا بن سکتی ہے، جو حزن سے مکمل طور پر پاک ہو۔ انسان کی نسبت سے قرآن کا یہ بیان کامل معنوں ایک مبنی بر واقعہ بیان (factual اتنا زیادہ مبنی بر واقعہ بیان کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بیان اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ قرآن ایک ایسی ہستی کی کتاب ہے جو تمام حقائق سے کامل واقفیت رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ ایک ایسی دنیا بنانا جو کامل معنوں میں انسان کے تخلیقی ساخت سے مطابقت رکھتی ہو، ایک ایسا کام ہے جو صرف رب العالمین کے لئے ممکن ہے۔ یعنی ایک ایسارب جو پورے معنوں میں عالمی اختیارات کا مالک ہو۔ اس طرح یہ آیت خدا کے وجود کا ایک ناقابل انکار ثبوت ہے، اور اس بات کا ثبوت بھی کہ قرآن، رب العالمین کا کلام ہے، وہ کسی انسان کا کلام نہیں۔