قتل سب سے بڑی برائی
Al-Risala, September 2015, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
قتل کیا ہے۔ قتل یہ ہے کہ کسی زندہ انسان پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہ معاملہ ایک فرد کے ساتھ کیا جائے تو اس کو قتل کہا جاتا ہے، اور یہی معاملہ جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے تو وہ قتل ہو یا جنگ، وہ ہر حال میں برائی کے افعال ہیں۔ کسی انسان کو مارنا، ایک ایسا فعل ہے، جو اس قابل ہے کہ مارنے والے کو سب سے زیادہ سخت سزا دی جائے۔
ہر انسان خدا کی تخلیق ہے۔ ہر انسان کو اس کے خالق نے اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ دنیا میں آزادی کے ساتھ زندگی گزارے اور خالق نے اس کو جس امکان (potential) کے ساتھ پیدا کیا ہے اس کو وہ اپنی محنت سے واقعہ (actual) بنائے ۔
حقیقت یہ ہے ہر انسان خالق کا ایک منصوبہ (plan) ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو قتل کرنا، گویا خالق کے منصوبے کو قتل کرنا ہے۔ وہ خالق کے منصوبے کو ناکام بنانے کے ہم معنی جنگ بظاہر انسان کے خلاف ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر جنگ خالق کے خلاف جنگ ہے۔
جنگ کا آغاز نفرت سے ہوتا ہے۔ نفرت بڑھ کر تشدد بن جاتی ہے۔ تشدد جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے، اسی کا نام جنگ ہے۔ تشدد کلچر اپنے آغاز میں بھی غلط ہے، اور اپنے انجام میں بھی کوئی بھی منطق (logic) تشدد اور خوں ریزی کو ہرگز جائز ثابت کرنے والی نہیں۔ ایک درخت زمین سے نکلے اور ہری بھری شاخوں کے ساتھ پروان چڑھنے لگے تو وہ خالق کے منصوبے کا ایک جز ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے ایک پودے یا درخت کو کاٹ دے تو اس نے بلاشبہ ایک ناقابل معافی جرم کیا، اس نے ایک تخلیقی منصوبے کو پورا ہونے سے پہلے ختم انسان بھی خالق کا ایک زندہ درخت ہے۔ انسان کے لیے خالق کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ زمین میں پھیلے یہاں تک کہ وہ باغ بن جائے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے باغ پر ہتھیار چلاتا ہے،
وہ خود اپنے اوپر ہتھیار چلاتا ہے۔ ایسا انسان اپنے پر تشدد عمل سے خدا کے فیصلے کو بدلنا چاہتا ہے، مگر خالق کا فیصلہ کبھی بدلنے والا نہیں۔
خالق کا منشا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کا ہرا بھرا باغ بن جائے۔ اس باغ کا ہر درخت پھول اور پھل دے کر دنیا کی ترقی میں اضافہ کرے ، ہر انسان اپنے پوٹینشل (potential) کو ایکچول (actual) بنا کر خالق کے منصوبے کی تکمیل کرے۔ ہر انسان تہذیب (سویلائزیشن کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرے۔ ہر انسان دنیا میں آزادانہ عمل کر کے خود کچھ پائے، اور اپنے پائے ہوئے کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرے۔ ہر انسان تاریخ کا ایک صحت مند حصہ (healthy part) بن جائے۔ مگر تشدد کلچر (culture of violence) اس پوری خدائی اسکیم کو برباد کر دینے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد (violence) سب سے بڑا جرم ہے۔ ایسے مجرمین کے لیے بلا شبہ خدا کے یہاں سخت عذاب ہے۔ کوئی بھی خود ساختہ نظریہ تشدد کے مجرمین کو جنت میں پہنچانے حقیقت یہ ہے کہ تشدد پسند انسان دنیا میں کانٹے دار جھاڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ کاٹے جائیں اور ان کو ہمیشہ کے لیے کائنات کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے ۔
امن (peace) تعمیر کا عمل ہے، اس کے مقابلے میں جنگ تخریب کا عمل ہے۔ انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی آرام گاہ ہے۔ اور تشدد پسند انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی قید خانہ ۔
انسان اس دنیا میں آزاد ہے، لیکن اس کی آزادی محدود آزادی ہے۔ اس کی آزادی اس لیے ہے کہ وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق استعمال کرے۔ مگر جو شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، وہ اپنے عمل سے صرف یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو آزادی دی جائے، وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو عقل دی جائے، جس کے ذریعے وہ اچھے برے کو سمجھ سکتا تھا، اور اپنی زندگی کی درست تشکیل کر سکتا تھا۔
ایسی حالت میں جو انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے وہ اپنے آپ کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اگلے دورِ حیات میں اس کو جانور (animal) سے بھی زیادہ بری صورت میں اٹھایا جائے۔ اگلے دورِ حیات میں وہ صرف محرومی کی زندگی گزارے، اگلے دورِ حیات میں اس کا حال یہ ہو کہ وہ پکارے، لیکن کوئی اس کی پکار کا جواب دینے والا موجود نہ ہو، وہ مدد کے لیے آواز دے، لیکن وہاں کوئی اس کی مدد کرنے والا موجود نہ ہو۔
کسی شخص کا انسان کی حیثیت سے پیدا ہونا خالق کا ایک انوکھا انعام ہے۔ مزید یہ کہ وہ خالق کی طرف سے ایک خوش خبری ہے۔ اس بات کی خوش خبری کہ اگر تم نے اپنی موجودہ زندگی کو خالق کے نقشے کے مطابق گزارا، اگر تم نے تشدد کے بجائے امن کو اپنا طریقِ حیات بنایا تو اگلے دورِ حیات میں تم کو خالق کی مزید عنایات حاصل ہوں گی۔ آج تم انسان (man) کی حیثیت سے پیدا کیے گئے ہو۔ دورِ حیات میں خالق تم پر یہ انعام کرے گا کہ وہ تم کو فوق البشر (superman) کا درجہ دے دے گا۔ موجودہ دورِ حیات میں تم نے سب کچھ کر کے بھی بربادی کے سوا کچھ اور نہیں پایا تھا، لیکن اگلے دورِ حیات میں تم خالق کی ایسی نعمتوں کو پالؤ گے جس کا اس سے پہلے تم نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔ سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسبِ ذیل پتے پر دستیاب ہیں : Dr. M. Aslam Khan (Principal)