Al-Risala · October 2015

قرآن کا ترجمہ

Al-Risala, October 2015, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن اس لئے بھیجا گیا کہ وہ سارے عالم کے لئے نذیر ساری قوموں کے لئے نذیر بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ قرآن کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میں ترجمہ کر کے ان کو پہنچایا جائے۔ یہ اصول خود قرآن سے ان الفاظ میں معلوم ہوتا پیغمبر کو قوم کی اپنی زبان میں بھیجنا۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (14:4)۔

یہ اللہ کی ایک سنت ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پچھلے زمانے میں خدا قوموں کو خود ان کی اپنی زبان میں ہدایت بھیجے، اور بعد کے زمانے میں ساری قوموں کو صرف عربی زبان میں ہدایت بھیجے ۔ غیر فطری بھی ہے اور اللہ کی سنت کے خلاف بھی۔ اس لیے اب امت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کو تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کر کے ان قوموں تک پہنچائے۔ اس کے بغیر قوموں پر اللہ کی حجت تمام نہیں ہو سکتی۔ پرنٹنگ پریس کے دور میں ایسا کرنا پوری طرح ممکن ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا سب سے بڑا استعمال یہی ہے۔

مسلمانوں نے عربی زبان میں تو قرآن کے بے شمار نسخے چھاپ کر ہر جگہ پھیلا دیے ہیں۔ یہ کام ابھی تک باقی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں قرآن کا قابل فہم ترجمہ تیار کیا جائے، اور اس کو ہر انسان تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ یہاں تک کہ کوئی انسان اس سے بے خبر نہ موجودہ زمانے میں یہ کام پوری طرح ممکن ہو چکا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر اس کی اہمیت کا شعور پیدا ہو جائے۔ امت مسلمہ کا اصل فریضہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ ہے۔ اس کام کی ادائیگی امت مسلمہ پر اسی طرح فرض ہے جس طرح اس پر نماز اور روزہ فرض یہ فریضہ، فرض عین کی مانند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلم فرد کو اس کام کی ادائیگی میں اپنا حصہ لازماً ادا کرنا ہے۔

Printed page