Al-Risala · October 2015

اچانک موت

Al-Risala, October 2015, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

انڈیا کے سابق پریزیڈنٹ ڈاکٹر عبد الکلام 27 جولائی 2015 کو انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 83 سال تھی۔ وہ نئی دہلی سے شیلانگ گئے۔ وہاں ان کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (Indian Institute of Management) شیلانگ میں ایک سائنسی موضوع پر لکچر دینا پروگرام کے مطابق انھوں نے اپنا لکچر شروع کیا۔ اس وقت ہال میں سامعین اور میڈیا کے لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔

ڈاکٹر کلام بمشکل پانچ منٹ بول پائے تھے۔ اس کے بعد اچانک ان کی زبان بند ہو گئی، اور وہ اسٹیج پر گر پڑے۔ ان کو فورا اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر کلام کی موت واقع ہو چکی ہے۔ لکچر کا آخری جملہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا: It is the destiny of our nation that an Indian brain requires an acknowledgment from a foreign... موت لازماہر انسان پر آتی ہے۔ تاہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موت کسی آدمی پر اس طرح آتی ہے کہ وہ بیمار ہو جائے، یا اس کو کوئی حادثہ پیش آجائے، یا وہ بوڑھا ہو کر مرے۔ لیکن خالق کبھی ایسا کرتا ہے کہ انسان کی موت اچانک آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ نہ کوئی آخری وصیت کر سکتا، اور نہ وہ اپنا درد دوسروں سے بیان کر سکتا۔ وہ بالکل نارمل حالت میں ہوتا ہے کہ اچانک اس کی آواز بند ہو جاتی ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔

کسی شخص پر اچانک موت اس لیے آتی ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر سبق لیں، وہ بے خبری کی زندگی نہ گزاریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک صحابی رسول عبد اللہ ابن عمر نے ان الفاظ میں بیان کیا: إذا أمسيت فلا تنتظر الصباح، وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416) جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔

Printed page