Al-Risala · October 2015

سیاسی ظلم نہیں

Al-Risala, October 2015, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان پر وقت کے ارباب اقتدار نے اس کو کچھ لوگوں نے سیاسی ظلم کے معنی میں لے لیا اور کہا کہ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اپنے وقت کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کر کے نیا نظام بنانا چاہتے تھے۔ یہ ارباب اقتدار کے لئے ایک سیاسی خطرہ تھا اس لئے انھوں نے پیغمبروں پر ظلم کیا۔

اس معاملہ کی یہ تفسیر بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبروں کے ساتھ جو ظلم کیا گیا وہ مشرکانہ ظلم تھا نہ کہ سیاسی ظلم۔ یہ بات قرآن سے ثابت ہے۔ مثلاً قرآن میں کہا گیا ہے: وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (8:85) ۔ یعنی اور ان کی ان سے دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جو زبر دست ہے، تعریف والا ہے۔

قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا کلچر اس بنا پر پیغمبر جب ایک نئے مذہب کی تبلیغ کرتاتومروجہ مذہب کے ذمے دار پیغمبر کے خلاف تشدد کرنے لگتے۔ یہ تشدد تمام تر مذہبی تشدد تھا، اس کا کوئی تعلق سیاست اور حکومت سے نہ تھا۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کے علاوہ دوسرے تمام پیغمبروں نے صرف پرامن دعوت کا کام کیا ہے۔ کسی نے زمین پر حکومت قائم نہیں کی۔ حالاں کہ اگر پیغمبروں کا مشن سیاسی ہوتا تو ضروری تھا کہ اللہ کی مدد سے ان کو زمین پر سیاسی غلبہ حاصل ہو۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ پیغمبروں کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي (58:21) یعنی الله نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ قرآن کی یہ آیت تمام پیغمبروں کے بارے میں ہے، وہ کسی ایک پیغمبر کے بارے میں نہیں۔ ایسی حالت میں تمام پیغمبروں کو اپنے زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل ہونا چاہیے تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے ایسا نہیں ہوا۔ قرآن کی اس آیت میں غلبہ سے مراد نظریاتی غلبہ ہے، نہ کہ سیاسی غلبہ۔ اور اس معنی میں ہر پیغمبر کو غلبہ حاصل ہوا۔

Printed page