Al-Risala · October 2015

صبر کا انعام

Al-Risala, October 2015, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آدمی ایک چیز کے کھونے پر صبر کر لے تو اس کے بعد وہ اس سے زیادہ بڑی چیز پا لیتا ہے جس کے کھونے پر اس نے صبر کیا تھا۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ آدمی جب صبر کرتا ہے تو اس کا صبر ایک ایسی چیز پر ہوتا ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق پیش آئی تھی، جس میں آدمی کو کوئی اختیار نہیں۔ اس طرح صبر کا مطلب یہ ہے کہ نہ ملنے والی چیز پر محرومی کو بطور واقعہ تسلیم کرنا، اور ملنے والی چیز کے حصول کے لیے اپنی کوشش کو جاری رکھنا۔

صبر (patience) کوئی بے عملی کا واقعہ نہیں۔ بلکہ صبر ایک عظیم عمل ہے۔ صبر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آئے تو وہ اس پر افسوس کر کے اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ اس کو بھلا دے۔ یہی صابرانہ روش ہے۔ اس صابرانہ روش کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بقیہ وقت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ نئے عزم کے ساتھ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ نئے مواقع (opportunities) کو دریافت کر کے ان کو استعمال کرے_ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس جو کچھ بچا ہے اس کو منظم انداز میں کام میں لانے کی کوشش کرے۔ وہ گزرے ہوئے ناخوشگوار واقعے کو اپنے لیے ایک تجربہ بنا لے_ وہ اس سے سبق سیکھے اور آئندہ زیادہ بہتر انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔

پرانا مقولہ ہے کہ صبر تلخ است ولیکن بر شیریں دارد (صبر کڑوا ہے، لیکن اس کا پھل میٹھا ہوتا دنیا کا قانون یہ ہے کہ بے صبری ہمیشہ آدمی کے نقصان میں مزید اضافہ کرے۔ اور صبر آدمی کو اس قابل بنائے کہ وہ ایک چانس کو کھونے کے بعد وہ دوسرے چانس کو نہ کھوئے، وہ دوسرے چانس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اس نقصان کی تلافی کرلے_ اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ ایک موقع کو کھونا، کبھی خاتمہ کے ہم معنی نہیں ہوتا، بلکہ وہ نئے موقع کو دریافت کر کے اس کو استعمال کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔

Pakistanis in Diaspora پاکستان 1947 میں بنا۔ اس کے بانیوں کا خواب تھا— پاکستان کو ایک علاحدہ مسلم اسٹیٹ (separate Muslim state) بنانا۔ مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان کو چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں جانے یہاں تک کہ پاکستانی مسلمانوں کی پاکستان سے باہر ایک بڑی کمیونٹی وجود میں آگئی۔ کمیونٹی کو پاکستانیز ان ڈائسپورا (Pakistanis in Diaspora) کہا جا سکتا ہے۔ ان کی مجموعی تعداد تقریباً 8 ملین ہے:

There are around eight million Pakistani people living abroad. یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، یہ جو ہوا، یہ اللہ کے منصوبہ کے تحت ہوا۔ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم اللہ کو یہ منظور ہوا کہ وہ پاکستانی قوم کو ایک زیادہ بڑے مشن کے لیے استعمال کرے۔ وہ تھا ساری دنیا میں پاکستانیوں کو پرامن خدائی سفیر (ambassadors of God) بنانا، پاکستانیوں کو یہ دعوتی رول دینا کہ وہ اللہ کے پیغام کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچائیں۔

یہ گویا با اعتبار صورت صحابہ کی تاریخ کا ایک اعادہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ تیرہ سال بعد آپ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے کہا تھا: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة ـ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول سادہ طور پر مدینہ کی فضیلت کا بیان نہ تھا۔ یہ دراصل ایک عالمی دعوتی عمل (process) کی پیشین گوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہجرت کے بعد مدینہ اسلام کا

دعوتی مرکز بنے گا۔ اس کے بعد یہاں سے ایک منصوبہ بند دعوتی عمل شروع ہوگا جو آخر کار پوری آباد دنیا کا احاطہ کر لے گا۔

اسلام کا دعوتی عمل مکہ میں شروع ہوا، پھر مدینہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اہل ایمان کی تعداد بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبوت کے 23 ویں سال 632 عیسوی میں وہ حج ادا کیا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ میں صحابہ کی جو تعداد آپ کے ساتھ تھی وہ ایک لاکھ (100,000) سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس اجتماع کے موقعہ پر پیغمبر اسلام نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، تم میرے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچادو۔ کے اس ارشاد سے اصحاب رسول کو عمل کا ایک نشانہ (target) مل گیا ۔ وہ عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔

اس کی ایک مثال میں نے ایک سفر کے دوران قبرص (Cyprus) میں دیکھی، جو کہ ایسٹرن میڈی ٹیرین سی میں واقع ہے۔ یہاں سمندر کے ساحلی شہر لارنا کہ (Larnaca) کے مقام پر ایک صحابیہ ام حرام بنت ملحان (وفات 27 یا 28 ھ) کی قبر اب تک موجود ہے۔

حجۃ الوداع کے بعد جو صحابہ عرب سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پھیل گیے، وہ گویا صحابہ ان ڈائسپورا (Sahaba in Diaspora) تھے۔ انھوں نے ہر ملک میں پرامن دعوہ ورک اسی طرح جو پاکستانی مسلمان اس وقت ڈائسپو رامیں ہیں ، اگر وہ ہر ملک میں پرامن دعوہ ورک کریں تو ان شاء اللہ ان کو اللہ کی توفیق سے اس جیسا درجہ مل سکتا ہے جو اسلام کے دور اول میں صحابہ ان ڈائسپورا کے لیے مقدر ہوا تھا۔

موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں دعوت کا کام بہت آسان ہو چکا ہے۔ اور وہ ہے پرامن انداز میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں ڈسٹری بیوٹ کرنا، اور اسی کے ساتھ سپورٹنگ لٹریچر کو لوگوں تک پہنچانا۔

Printed page