Al-Risala · October 2015

عدم اعتراف

Al-Risala, October 2015, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے کہا کہ میرے ملنے والوں میں ایک شخص ہے جو بہت اچھی باتیں کرتا تھا۔ اس کے کہنے پر میں نے اس کو بزنس شروع کرنے کے لیے کچھ رقم دے دی۔ اس کا بزنس کامیاب لیکن اب وہ مجھ سے بات نہیں کرتا۔ رقم کی واپسی کا بھی کوئی ذکر نہیں کرتا۔ میں نے کہا کہ یہ تو عام بات ہے جس کے ساتھ بھی آپ کوئی اچھا سلوک کریں گے وہ بعد کو آپ کے لئے اجنبی جیسا بن جائے گا۔ عطیہ کے بارے میں انسان کا یہ عام مزاج ہے۔ عطیہ پانے سے پہلے وہ عطیہ کو دوسرے کی چیز سمجھتا ہے، مگر عطیہ پانے کے بعد وہ اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیتا ہے۔ انسان کے اس مزاج کی وجہ سے بے اعترافی کا کلچر ہر سماج میں پایا جاتا ہے۔

انسان جب انسان کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے تو وہ اس کا عادی بن جاتا ہے۔ پھر انسان کے ساتھ اس کی ناشکری خالق کے ساتھ ناشکری تک پہنچ جاتی ہے۔ خالق کی طرف سے انسان کو اتنی زیادہ چیزیں ملی ہوئی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں۔ چونکہ یہ چیزیں انسان کو پیدا ہونے کے بعد اپنے آپ مل جاتی ہیں اس لئے اپنے عام مزاج کے مطابق انسان یہ کرتا ہے کہ ملی ہوئی چیز کو وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان چیزوں کو خالق کا عطیہ نہیں سمجھتا بلکہ ان کو اپنی محنت سے حاصل کی ہوئی چیز سمجھتا ہے۔

انسان کا یہی مزاج ہے جس کی وجہ سے وہ انسان کے عطیات کا اعتراف نہیں کرتا۔ طرح وہ خالق کے برتر عطیات کا بھی اعتراف نہیں کرتا۔ وہ انسان کے بارے میں بھی ناشکری کا معاملہ کرتا ہے اور خالق کے معاملہ میں بھی ناشکری کا معاملہ۔ یہ بے حد خطر ناک بات ہے۔ (acknowledgment) سب سے بڑی نیکی ہے۔ یہ نیکی انسان کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور خدا کی نسبت سے بھی۔ جو آدمی اس نیکی سے خالی ہو، وہ یقیناً دوسری نیکیوں سے بھی خالی ہو جائے گا۔

Printed page