Al-Risala · October 2015

دین اور اسٹیٹ

Al-Risala, October 2015, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مشہور جماعت کے بانی اپنی ایک کتاب میں دین کا مفہوم بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: دین کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو زمانۂ حال میں اسٹیٹ کے معنی ہیں، لوگوں کا کسی بالاتر اقتدار کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا، یہ اسٹیٹ ہے، یہی دین کا مفہوم بھی ہے۔ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش، حصہ سوم)

اس اقتباس کا علمی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں دین کی تشریح بھی درست نہیں، اور اسٹیٹ کی تشریح بھی درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ادبی جملہ ہے، وہ دین اور اسٹیٹ کے بارے میں کوئی علمی بیان نہیں۔

لفظ دین کا مطلب اصلاً وہی ہے جس کو مذہب (religion) کہا جاتا ہے۔ دین کا لفظ جب اسلام کے لیے بولا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان کے لیے خدا کی وہ ہدایت جو محفوظ حالت میں آج تک موجود ہے۔ دین کے لفظ میں اصولی اعتبار سے سیاست کا مفہوم شامل نہیں۔ اسٹیٹ کا مطلب ریاست ہے۔ اسٹیٹ ایک اجتماعی ہیئت ہے۔ علمی اعتبار سے اسٹیٹ کے چار اجزاء ہوتے ہیں— آبادی، رقبہ، اقتدار، حکومت:

Printed page