شخصیت کی تعمیر
Al-Risala, October 2015, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی شخصیت کی تعمیر کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: کل الناس يغدو فبايع نفسه فمعتقها أو موبقها (صحیح مسلم، حدیث نمبر 223)۔ ہر انسان چل رہا ہے، پس وہ اپنے آپ کو بیچ رہا ہے، پھر کوئی اپنے آپ کو آزاد کرتا اور کوئی اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔
اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں ایک نفسیاتی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ حقیقت وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ کا عمل (process of conditioning) کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے خارجی حالات سے اثر قبول کرنا۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ ایک ماحول کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے صبح و شام اس ماحول کے اندر گزارتا ہے، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے ماحول کا اثر قبول کرتا رہتا ہے۔ اس طرح ہر عورت اور ہر مرد کی شخصیت کی تعمیر ایک خارجی ماحول کے اندر ہوتی ہے۔ اس عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص اس طرح بن کر تیار ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماحول کی پیداوار (product of his environment) بن جاتا ہے۔
ایسی حالت میں انسان کے لیے اپنے بارے میں دو قسم کے اختیار (options) ہوتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ماحول کے حوالے کر دے۔ اس کے قریبی حالات اس کو جیسا بنائیں ویسا ہی وہ بنتا چلا جائے ۔ اس کے قریبی حالات اگر اس کے اندر منفی شخصیت کی تعمیر کر رہے ہوں تو وہ اس سے متاثر ہوتا رہے، یہاں تک کہ وہ ایک منفی ذہن والا انسان بن جائے۔ یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ اس کے برعکس، دوسرا انسان وہ ہے جو اپنے ذہن کو بیدار کرے، وہ اپنے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرے، وہ ذہنی اعتبار سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ چیزوں کا آزادانہ تجزیہ کر سکے، وہ غیر متاثر انداز میں چیزوں کی قدر و قیمت متعین کرنا (evaluation) سیکھ لے۔ تاثر پذیری سے بچ جائے گا۔ وہ اپنے اندر ایک آزاد شخصیت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔