Al-Risala · October 2015

سادگی کی اہمیت

Al-Risala, October 2015, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

سادگی (simplicity) کی اہمیت دین میں بہت زیادہ ہے۔ سادگی کا ضد تکلف ہے۔ سادگی ہوگی وہاں فرشتے ہوں گے۔ فرشتوں کی موجودگی سے وہاں روحانیت کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔ وہاں غیر ضروری باتیں نہیں ہوں گی ۔ وہاں کسی قسم کی منفی سوچ (negative thinking) نہیں پائی جائے گی۔ وہاں لوگوں کے لیے اللہ کے معاملے میں خشیت کی اسپرٹ ہوگی ، اور انسان کے معاملے میں خیر خواہی کی اسپرٹ۔

اس کے برعکس طریقہ تکلف کا طریقہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابی بیان کرتے ہیں: نهينا عن التکلف ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7293)۔ یعنی ہم کو تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ مطلب غیر ضروری اہتمام ہے۔ سادگی یہ ہے کہ چیزوں میں بقدرِ ضرورت پر اکتفا کیا جائے ۔ برعکس، تکلف یہ ہے کہ ضرورت کے ساتھ ان چیزوں کو بھی شامل کیا جائے جو انسان کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہیں۔ جہاں سادگی ہوگی وہاں بناوٹ نہ ہوگی، اور جہاں بناوٹ ہوگی وہاں سادگی نہیں ہو سادگی اور تکلف دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

تکلف کا ماحول روحانیت کا قاتل ہے۔ جہاں تکلف ہوگا وہاں شیطان کو گھسنے کا موقع مل جائے شیطان کے اثر سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بدل جائے گا۔ لوگ ان چیزوں کے بارے میں حساس (sensitive) ہو جائیں گے ، جن کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ لوگوں کی بات چیت میں سنجیدگی نہیں پائی لوگوں کے اندر شکر اور اعتراف کا ماحول نہ ہوگا۔ لوگ اہم اور غیر اہم کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہو جائیں گے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کے اندر خدا اور آخرت کا مزاج باقی نہ رہے گا۔ فارم کے اعتبار سے ان کے یہاں بظاہر سب کچھ ہوگا، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے جو چیزیں مطلوب ہیں، وہ ان کے یہاں مفقود ہو جائیں گی۔ سادگی انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے، اور تکلف انسان کو خدا سے دور کر دیتا ہے۔

Printed page