Al-Risala · January 2015

محبت خداوندی

Al-Risala, January 2015, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ البقرہ میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبّاً لِلَّهِ (2:165) یعنی اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔

قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان کے اندر حب شدید (strong affection) صرف ایک اللہ کے لیے ہونا چاہئے۔ یہ حب شدید سادہ طور پر صرف عقیدہ کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دراصل اللہ کی اعلیٰ معرفت کا معاملہ ہے۔ جب انسان کو گہرے مطالعہ اور گہرے تدبر کے نتیجہ میں اللہ کی اعلیٰ دریافت ہوتی ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے تمام اعلیٰ جذبات (sentiments) اللہ سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ اپنے اندر اور اپنے باہر، ہر طرف اللہ کی عظمت (glory) کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ ہر آن اس پر نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ احساسات اس پر اتنی شدت سے طاری ہوتے ہیں کہ اللہ اس کو اپنا سب کچھ نظر آنے لگتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جس کو مذکورہ آیت میں حب شدید سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ حب شدید صرف ایک قلبی تعلق کا معاملہ نہیں ہے، وہ ایک ایسا تجربہ ہے جو آدمی کی پوری زندگی کے رخ کو بدل دیتا ہے، وہ آدمی کو ایک نئی راہ عمل عطا کرتا ہے، وہ آدمی کی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بن جاتا ہے۔ اللہ سے حب شدید کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی سوچ تمام تر اللہ کی تابع ہو جاتی ہے۔ ایسا انسان اللہ کے مشن کو اپنا مشن بنا لیتا ہے۔ وہ اللہ کے لیے جینے والا اور اللہ کے لیے مرنے والا بن آیت میں اللہ سے حب شدید کو خبر کے صیغے میں بتایا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کے اندر اپنے خالق سے حب شدید ذاتی دریافت (self discovery) کے طور پر پیدا ہوتی ہے، نہ کہ ایک خارجی حکم کی قانونی پیروی کے طور پر۔

Printed page