Al-Risala · November 2015

توحید انسانیت کی منزل

Al-Risala, November 2015, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا انسانیت کی منزل ہے۔ اس دنیا میں وہی انسان کامیاب ہے جو ایک خدا کو اپنا سب کچھ ہر انسان ایک نامکمل وجود ہے۔ خدا کے ساتھ وابستہ ہو کر وہ اپنے آپ کو مکمل کرتا ہے۔ انسانیت کے تمام تقاضوں کی واحد تکمیل ہے۔

ہر انسان ایک روحانی تلاش میں ہے۔ ہر انسان اپنے لئے سکون و اعتماد کا ایک مرکز چاہتا ہے۔ یہ مرکز صرف ایک خدا ہے۔ خدا انسان کی روحانی تلاش کا واحد جواب ہے۔ جس انسان نے خدا کو پالیا، اس نے گویا وہ سب کچھ پالیا جس کو وہ اپنے فطری تقاضے کے تحت پانا چاہتا ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے انسان کو ایک دستور حیات درکار ہے جو اس کو بتائے کہ لوگوں کے درمیان اس کو کس طرح رہنا ہے اور کس طرح نہیں رہنا ہے۔ جو اس کو زندگی کی گائیڈ بک عطا کرے۔ انسان کی اس طلب کا ماخذ بھی خدا ہے۔ خدا ہی انسان کو وہ قابل اعتماد رہنمائی دیتا ہے جس کی مدد سے وہ روشنی اور اندھیرے میں یکساں طور پر درست سفر کر سکے۔ خدا انسان کا خالق اور مالک ہے۔ وہی اس کا حق دار ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ زندگی کیا ہے اور موت کیا ہے۔ انسانیت کا قافلہ کہاں سے شروع ہوا اور وہ کہاں جا رہا ہے۔ وہ صحیح راستہ کیا ہے جس پر چل کر وہ بھٹکے بغیر منزل پر پہنچ سکے۔

ہر انسان کی سب سے پہلی اور سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ اس خدا کو پائے، وہ اپنے آپ کو خدا سے وابستہ کرے، وہ اس سے محبت کا تعلق قائم کرے ۔ وہ اپنی پوری زندگی کا رخ خدا کی طرف موڑ دے۔ خدا رخی زندگی (God-oriented life) ہی اس دنیا کی واحد درست زندگی ہے۔ جو ایسی زندگی کو اپنائے وہی کامیاب ہے اور جو ایسا نہ کر سکے وہی محروم اور نا کامیاب۔ کائنات کا نور قرآن کی سورہ نمبر 24 میں بتایا گیا ہے: اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (النور: 35)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ یعنی اس پوری کائنات میں جہاں بھی کوئی روشنی ہے وہ خدا کی ذات خدا اگر روشنی نہ دے تو کہیں اور سے کسی کو بھی روشنی ملنے والی نہیں۔ سورج اگر نہ ہو تو زمین پر ہر طرف اندھیرا چھا جائے۔ اسی طرح اگر ستارے نہ ہوں تو ساری کائنات گہری تاریکی میں ڈوب جائے۔ خدا نے ساری کائنات میں بے شمار تعداد میں انتہائی روشن قسم کے متحرک اجسام پھیلا دئے ہیں جو کائنات کے ہر حصہ کو مسلسل طور پر روشنی کا تحفہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ کائناتی نظام نہ ہو تو دنیا اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تاریکی کا ایک بھیانک غار بن جائے گی۔

یہ مادی روشنی کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ فکری اور روحانی روشنی کا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو ضرورت ہے کہ اس کے ذہن کو وہ رہنمائی ملے جس کی روشنی میں وہ صحیح طور پر سوچے اور اس کو وہ روحانی خوراک ملے جو اس کے سینہ میں حکمت حیات کا باغ اگادے۔ فکری اور روحانی روشنی کا سرچشمہ بھی صرف اور صرف خداوند ذوالجلال ہے۔ یہ روحانی روشنی بھی ایک خدا کے سوا کہیں اور سے انسان کو ملنے والی نہیں۔

Printed page