خوف و محبت کا مرکز
Al-Risala, November 2015, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
توحید کا مطلب ہے ایک اللہ پر اعتماد کرنا اور اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس سے وابستہ ہو جانا، اُسی کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنانا۔ سوچنے اور محسوس کرنے کی جو صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ اپنا کوئی نہ کوئی تو جہاتی مرکز چاہتی ہیں۔ آدمی فطری طور پر چاہتا ہے کہ کوئی ہو جس کی طرف وہ لپکے، جس سے وہ اُمید رکھے، جس کے اوپر وہ بھروسہ کرے، جس کی یاد کو وہ سرمایہ حیات بنائے۔
آدمی اپنی ہستی کا ایک مرکز بنائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خواہ یہ مرکز دولت واقتدار ہو یا قبریں اور دیوی دیوتا، یا کوئی دوسری چیز۔ یہ مرکز اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہو تو یہ شرک ہے۔ اور اگر انسان صرف اللہ رب العالمین کو اپنی ہستی کا مرکز بنائے تو اسی کو توحید کہتے ہیں۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنی تو جہات کو صرف اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے سوا کوئی چیز اس کے لئے مرکز توجہ کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔
آدمی جب خدا کو اپنا معبود بناتا ہے تو وہ ایک ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے جو حقیقی طور پر اس کے برعکس جب کوئی آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بنائے تو اس نے ایک ایسی چیز کو اپنا معبود بنایا جس کا واقعات کی دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، خواہ بظاہر اس نے اس مفروضہ معبود کی ایک صورت بنا کر اپنے سامنے رکھ لی ہو۔ جو آدمی خدا کو اپنا معبود بنائے اس نے طاقت کے حقیقی سر چشمہ کو پالیا۔
اس کے برعکس جو آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بناتا ہے وہ ایک ایسے توہماتی مفروضہ سے اپنا رشتہ جوڑتا ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ خدا کی عبادت گزار ابدی سعادت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر خدا کے عبادت گزار کے لئے ابدی محرومی کے سوا کوئی اور چیز نہیں۔ پیغمبروں کا مشن پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی لئے آئے کہ وہ انسان کو شرک
سے ڈرائیں اور انھیں توحید کی تعلیم دیں، تاکہ انسان اس کے مطابق، اپنی زندگی کی اصلاح کرے اور دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکے۔ مگر انسانیت کی لمبی تاریخ میں تقریباً ہر پیغمبر کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں کی زیادہ تعداد نے ان کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ خاص طور پر سماج کے بڑے لوگ کبھی پیغمبر کو ماننے یا ان کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس تاریخی واقعہ کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے (یس: 30)۔ خدا کے پیغمبروں کو نظر انداز کرنے کا یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ پچھلے دور میں آنے والے پیغمبروں کو انسانی تاریخ کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ماضی کی مدون تاریخ میں بادشاہوں کی داستانیں تو پڑھتے ہیں مگر پیغمبروں کا تذکرہ مدون تاریخ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔
اس معاملہ میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد استثناء ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی۔ چنانچہ آپ نے پہلی بار رد شرک اور اثبات توحید کی تحریک کو ایک ایسی زندہ تحریک بنایا جس نے اس تحریک کو فکری مرحلہ سے اٹھا کر عملی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچادیا اور اس کی ایک مستقل تاریخ بنادی۔