Al-Risala · November 2015

دور کاوٹ

Al-Risala, November 2015, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

رد شرک اور اثبات توحید کی یہ تحریک قدیم زمانہ میں کیوں عملی انقلاب کے درجہ تک نہ اس کا سبب خاص طور پر دو تھا: ایک ، بادشاہت کا نظام ، دوسرے، توہماتی افکار کا یہی دو بنیادی اسباب تھے جو پیغمبروں کے مشن کے خلاف ایک مستقل رکاوٹ بنے رہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے دور میں مشرکانہ بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ زمانہ میں جمہوری سیاست کا اصول رائج ہے۔ سیاسی لیڈر عوامی ووٹوں کے ذریعہ اپنے لئے حکمرانی کا حق حاصل کرتے ہیں۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ اس کے برعکس یہ کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر حکومت کرتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں۔ ہم خدا کی اولاد ہیں۔

اسی نظریہ کے تحت قدیم زمانہ میں سورج پرستی اور چندر پرستی کا عقیدہ پیدا ہوا۔ زمانہ میں حکومت کی بنیاد سیکولر جمہوریت ہے جب کہ قدیم زمانہ میں حکومت کی بنیاد مشرکانہ عقیدہ پر اسی واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى اس بنا پر یہ بادشاہوں کے عین سیاسی مفاد میں تھا کہ شرک کا عقیدہ دنیا میں قائم رہے۔ چنانچہ ان کی خصوصی سرپرستی کے تحت عبادت گاہ سے لے کر جینے مرنے کی رسموں تک زندگی کا پورا نظام شرک کے اوپر قائم ہو گیا تھا۔

یہ مشرکانہ نظام قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک تمام دنیا میں چھایا رہا۔ بادشاہوں کی سرپرستی کی بنا پر یہ مشرکانہ نظام اتنا زیادہ طاقتور ہو گیا کہ وہ ہمیشہ پیغمبروں کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ بنا اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کی تحریک صرف پیغام رسانی کے مرحلہ تک محدود رہی، وہ وسیع تر عملی انقلاب کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکی۔

اس سلسلہ میں دوسری رکاوٹ وہ تھی جس کو توہماتی افکار کا دور کہا جاسکتا ہے۔ میں جب کہ جدید قسم کی سائنسی دریافتیں نہیں ہوئی تھیں، انسان فطرت کے مظاہر کی صحیح نوعیت کو نہیں سمجھ پایا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ دنیا میں مختلف قسم کی حیران کن چیزیں ہیں ۔ ستارے، پہاڑ اور سمندر، زمین اور آسمان، درخت اور حیوانات وغیرہ وغیرہ۔

مظاہر کے اس تعدد کو دیکھ کر انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ ان کے خالق بھی کئی ہیں یا یہ کہ مختلف مظاہر خود مختلف خداؤں کا ظہور ہیں۔ اس طرح تعدد مظاہر کی بنا پر تعدد الٰہ کا نظریہ پیدا یہاں تک کہ سورج اور چاند کو ان کے غیر معمولی پن کی بنا پر خدا یا دیوتا سمجھا جانے لگا۔ کے لئے یہ ناقابل یقین ہو گیا کہ جب مخلوقات میں اتنا زیادہ تنوع اور تعدد ہے تو ان سب کا خدا ایک کیسے ہوسکتا ہے۔

اسی حقیقت کی طرف خدا کے پیغمبر حضرت ابراہیم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا (ابراہیم: 36) یعنی فطرت کے یہ نمایاں مظاہر (سورج، چاند وغیرہ)

نے انسان کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ لوگ انھیں مظاہر کو عظیم سمجھنے لگے۔ حالانکہ انھیں چاہیے تھا کہ وہ ان تمام چیزوں کو عظیم خدا کی مخلوق سمجھیں۔ مگر اس کے برعکس انھوں نے خود مخلوقات ہی کو خدا سمجھ کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔

موجودہ زمانہ میں مذکورہ دونوں افسانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک طرف جمہوری افکار کے ذریعہ ساری دنیا میں جو طاقتور سیاسی انقلاب آیا اس نے قدیم طرز کی مشرکانہ بادشاہت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔

اب آج کی دنیا میں قدیم طرز کے بادشاہوں کا کہیں وجود نہیں۔ وہ جدید جمہوریت کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ اس جدید سیاسی انقلاب کے بعد مشرکانہ عقیدہ یا مشرکانہ نظام اس مؤثر سر پرستی سے محروم ہو گیا جو رد شرک اور اثبات توحید کی دعوت میں طاقتور رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اب یہ امکان پوری طرح کھل گیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کو بھر پور طور پر جاری کیا جائے اور اس کو اس طرح چلایا جائے کہ اول سے آخر تک کسی بھی مرحلہ میں اس کو کسی مزاحمت کا خطرہ نہ ہو۔

Printed page