Al-Risala · November 2015

اہلِ توحید اور اہلِ شرک

Al-Risala, November 2015, pp. 21–24

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی جب خدائے واحد پر سچا یقین کرتا ہے تو نفسیاتی سطح پر خدا سے اس کا رشتہ قائم ہو جاتا اس کے بعد روحانی تاروں پر اس کی پوری ہستی جگمگا اٹھتی ہے۔ وہ اپنی یادوں میں خدا کو پانے لگتا وہ اپنے آنسوؤں میں خدا کی جھلک دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات میں خدا اس طرح بس جاتا ہے جیسے کہ وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہو، جیسے کہ وہ خدا کے رحمت بھرے سایہ میں زندگی گزارنے لگا ہو۔

قرآن میں شرک کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے (لقمان: 13)۔ مطلب ہے کسی چیز کو غیر جگہ پر رکھ دینا (وضع الشئی فی غیر موضعه)۔ یعنی شرک (خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا) اس کائنات میں سراسر اجنبی ہے۔ اس دنیا میں شرک کا عقیدہ رکھنے یا مشرکانہ فعل کرنے کے لئے کائنات میں کوئی جگہ نہیں۔

اس دنیا کا خالق ایک ہی خدا ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو سنبھالنے والا ہے۔ کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے سوا کسی اور کو خدا مانے یا کسی اور کو خدا کی خدائی میں شریک کرے اس نے ایک خود ساختہ مفروضہ کو واقعی حقیقت کا درجہ دے دیا۔ نے ایک ایسی چیز کو موجود فرض کیا جس کا اس دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ مشرکانہ طرز فکر تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔ جس آدمی کا ذہن مشرکانہ طرز پر

سوچے، جس آدمی کے دل میں مشرکانہ خیالات پرورش پائیں، وہ ایک بے حقیقت چیز کو اختیار کرتا کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی تردید کرتی ہے۔

شرک کا عقیدہ یا نظریہ آدمی کو فکری غذا دینے والا نہیں۔ وہ اس کو اس روحانی روشنی سے منور کرنے والا نہیں جس کے بغیر آدمی کا پورا وجود ہی اس دنیا میں بے معنی ہو جاتا ہے۔ توحید کی حقیقت کو کسی ایک لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ بندے کے ایک ایسے تعلق کا نام ہے جو محبت اور خوف اور توکل کے جذبات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ بندہ اس وقت اللہ کا موحد بنتا ہے جب کہ وہ اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کا محبوب بن جائے۔ اسی پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرنے لگے۔ اس کو سب سے زیادہ جس بات کا اندیشہ ہو وہ یہ کہ کہیں اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اس کو خدا کی رحمتوں سے محروم کر دے۔ ان تمام انسانی جذبات کے لئے صرف اللہ کو خاص کر لینے کا نام توحید ہے۔ اس سلسلہ میں یہاں قرآن سے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں: ”کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ “ (البقرہ: 165) الله لا إله إلا هو وعلى فليتوكل المؤمنون (التغابن: 13) یعنی اللہ، اس کے سوا کوئی الہ نہیں، اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ إنهم كانوا یُسٰرِعُوْنَ في الْخَــیْرٰتِ ويدعوننا رغبا ورهبا ط وكانوا لنا خٰشِعِیْنَ (الانبیاء: 90) یعنی وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو امید سے اور ڈر سے اور وہ ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے۔

ان آیات کے مطابق توحید، اعتقادی طور پر یہ ہے کہ آدمی سب سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرنے لگے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ بھروسہ کی چیز اس کا خدا بن جائے۔ اس کی امیدیں

اور اس کے اندیشے اللہ کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو جائیں کہ وہ اپنے روز و شب کے لمحات میں اس کو بے تابانہ پکارنے لگے۔

اسی دریافت کا نام معرفت (realization) ہے۔ اس دریافت سے جس کے اندر وہ شخصیت بنے جب کہ ایک اللہ ہی اس کے لیے سب کچھ بن جائے، وہ اُسی کی یاد میں جئے اور یہی سوچ اس کی غالب سوچ بن جائے، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں موحد ہے۔ اس کے برعکس، اللہ جس کا واحد کنسرن نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ دوسری چیزوں کو بھی اپنا کنسرن بنائے ہوئے ہو، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں شرک میں مبتلا ہے۔ موحد کی شخصیت ائنگریٹڈ یٹیڈ پرسنالٹی(split (integrated personality) ہوتی ہے، اور مشرک کی شخصیت اسپلٹ پرسنلٹی (split personality)۔ شریعت کے مطابق، اللہ انسان کی اصل غایت ہے، اور دوسری چیزیں صرف اس کی توحید اور شرک دونوں کا تعلق حقیقت سے ہے، نہ کہ صرف مظاہر سے۔ توحید اور شرک کا فرق قرآن کے مطابق، شرک کا عقیدہ تمام انسانی برائیوں کی جڑ ہے۔ اس کے مقابلہ میں توحید کا عقیدہ تمام انسانی خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ قرآن میں واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے ــــ بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اُس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جو کچھ ہے اس کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا

توحید کا مطلب خالق کو پالینا ہے اور شرک کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مخلوقات میں اٹک کر رہ توحید حقیقت کی سطح پر جینے کا نام ہے اور شرک کا مطلب توہما ت کی سطح پر جینا۔ فطرت کی دریافت کا نتیجہ ہے اور شرک اپنی فطرت سے بے خبری کا نتیجہ۔ اہل توحید ہی اس دنیا کے مطلوب انسان کی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ یہی لوگ ہیں جو خالق کی منشا کے مطابق ہیں۔ دنیا کے بنانے والے نے اس کو جس منصوبے کے تحت بنایا ہے، اہل توحید اس منصوبہ الہی کی

تکمیل کر رہے ہیں۔ وہ اس نقشہ پر ہیں جس نقشہ پر انسان کو ہونا چاہئے۔ اہل توحید خدا کے مطلوب وہ دنیا میں دنیا کے مالک کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔

شرک اور اہل شرک کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ شرک خدا کی دنیا میں ایک اجنبی تصور اہل توحید اگر اس دنیا میں مطلوب لوگ (wanted people) ہیں تو اہل شرک اس کے برعکس غیر مطلوب لوگ (unwanted people)۔ شرک کے عقیدہ کو اس دنیا میں اس کے مالک کی سند شرک کی روش اس دنیا میں ایک ایسی روش ہے جس کی اجازت دنیا کے مالک نے دنیا میں بسنے والوں کو نہیں دی۔

گول خانہ میں کوئی چو کور چیز رکھی جائے تو وہ اس کے اندر فٹ نہیں بیٹھے گی۔ جب کہ گول خانہ میں گول چیز بالکل فٹ بیٹھ جاتی ہے۔ یہی معاملہ توحید اور شرک کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے صرف توحید کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے توحید کا تصور یا موحدانہ زندگی اس کی فطرت کے عین مطابق ہے جب کہ شرک کا عقیدہ یا مشر کا نہ زندگی انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ مشرک انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ غیر خدائی چیزیں اس کی تو جہات کا مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لئے پیش آنے والے مختلف حالات میں اس کا رویہ بھی انھیں غیر خدائی ہستیوں کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی میں بھی انھیں کی طرف دوڑتا ہے اور ناکامی میں بھی وہ انھیں کی پناہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔

اس کی مفروضہ غیر خدائی ہستیاں ہی ہر صورت حال میں اس کے دل و دماغ پر چھائی رہتی موحد انسان اگر اپنے تجربات سے توحید کی غذا پاتا رہتا ہے تو مشرک انسان کے لئے اس کے تجربات مشر کا نہ غذا کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

Printed page