Al-Risala · November 2015

شرک کی بے ثباتی

Al-Risala, November 2015, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

شرک کیا ہے۔ شرک یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان ، اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنا تا ہے، تو وہ اپنے لیے نہایت

بُرے بدل کا انتخاب کرتا ہے: بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلاً (الکہف: 50) یعنی یہ کتنا زیادہ بُرا بدل ہے ظالموں کے لئے :

How bad a substitute they have chosen!

یہ آیت گویا کہ پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ انسان نے بار بار ایسا کیا ہے کہ اُس نے خدا کے سوا کسی اور کو اپنے لیے معبود کا درجہ دیا۔ لیکن ہر بار یہ ثابت ہوا کہ انسان کا انتخاب (choice) نہایت برا انتخاب تھا۔ ایک اللہ کے سوا کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کو اپنا معبود بنایا جائے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک انسان، نیچر کو معبود کا درجہ دیتا رہا۔ چناں چہ دنیا میں عمومی طور پر وہ نظامِ پرستش رائج ہوا جس کو فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ سورج، چاند، پہاڑ، دریا، سمندر اور دوسری چیزوں کے بارے میں انسان نے یہ فرض کر لیا کہ اُن کے اندر اُلوہیت (divinity) موجود ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر، نیچر کی ہر چیز انسان کے لیے قابلِ پرستش بن گئی۔

Printed page