Al-Risala · November 2015

سائنس کے دور میں

Al-Risala, November 2015, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح جدید سائنس کے ظہور نے شرک کی دوسری بنیاد کو بھی ختم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی دریافتوں کے ذریعہ یہ افسانہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا کہ فطرت کے مظاہر میں کوئی حقیقی تعدد ہے یا انھیں کوئی ذاتی عظمت حاصل ہے۔

جدید سائنس نے ایک طرف یہ کیا کہ اپنے تجزیہ اور تجربہ کے ذریعہ آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ تمام چیزیں، ظاہری تعدد کے باوجود، اپنے آخری تجزیہ میں صرف ایٹم کا مجموعہ ہیں۔ اور ایٹم برقیاتی لہروں کا مجموعہ ہے۔ اس دریافت کے بعد فطرت میں تعدد کا افسانہ ختم ہو گیا۔ تمام چیزیں ظاہری فرق کے باوجود، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ثابت ہو گئیں۔ گویا علم کی اگلی ترقی نے مشرکانہ نظریہ کو رد کر کے توحید کے نظریہ کے لیے ایک ثابت شدہ بنیاد فراہم کر دی۔

اسی کے ساتھ جدید سائنس نے دوسری بات یہ ثابت کی کہ زمین میں یا وسیع خلا میں جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب کی سب بے بس مخلوق ہیں۔ سب کی سب ایک محکم قانون فطرت میں بندھی ہوئی انھیں کسی بھی درجہ میں کوئی ذاتی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں۔

تا ہم توہمات کا ابھی تک مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ ذاتی زندگی میں آج بھی ساری دنیا میں کروڑوں لوگ پراسرار قسم کے توہمات میں یقین رکھتے ہیں ۔ اہل علم طبقہ کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو دیوی دیوتاؤں کو تو نہیں مانتی مگر اب بھی وہ خدائے واحد تک نہیں پہنچی۔

فرق صرف یہ ہے کہ ان کی پچھلی نسلیں اگر دیوی دیوتاؤں میں اٹکی ہوئی تھیں تو اب قانون فطرت کے نام سے انھوں نے ایک اور معبود کو فرض کر لیا ہے اور اس کو اپنے ذہن میں اسی طرح بٹھائے ہوئے ہیں جس طرح قدیم انسان دیوی دیوتاؤں کو بٹھائے ہوئے تھا۔

قدیم زمانہ میں انسانی زندگی میں اور انسانی سماج میں بے شمار برائیاں پیدا ہو گئی تھیں ۔ کے نتیجہ میں انسان اپنی فطری عظمت سے محروم ہو گیا تھا۔ یہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ

ے کی ، کہ ہو ، جو بھی ے کی ، جو ہو ، یہ کہ کے معتبر ذرائع نے حقیقت واضح کرنے اٹھائی ہوئی تحریک توحید تھی جس نے دنیا کو اس المناک دور سے نکالا اور انسانیت کو حقیقی معنی میں ترقی کے دور میں داخل کیا۔

انسان پہلی باران سعادتوں سے ہمکنار ہوا جو خدا نے اس کے لئے مقدر کی تھیں مگر خود ساختہ توہمات کے نتیجہ میں اس نے اپنے آپ کو ان سے محروم کر رکھا تھا۔ انسانیت تاریکی کے طویل دور سے نکل کر روشنی کے نئے دور میں داخل ہو گئی۔ اب بظاہر مادی ترقیوں کے باوجود انسان دوبارہ مسائل کے اندھیروں میں گرفتار ہو گیا ہے۔ خوشنما تمدن کے اندر وہ حقیقی خوشی اور سکون سے محروم ہے۔ کی فطری عظمت دوبارہ پستیوں کے نئے کھڈ میں جا گری ہے۔

اب ضرورت ہے کہ توحید کی دعوت کو از سر نو نئی طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے۔ ایک طرف اس کو نئے دلائل اور نئے اسلوب کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنایا جائے اور دوسری طرف جدید ذرائع اشاعت کو استعمال کر کے اس کو ساری دنیا میں پھیلا دیا جائے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک تاریخی پیش گوئی میں اس طرح فرمایا تھا ۔ ایک وقت آئے گا جب کہ خدا کے دین کا پیغام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ کوئی گھر یا کوئی خیمہ ایسا نہ بچے گا جس کے اندر توحید کا کلمہ پہنچ نہ گیا ہو۔ (یہ مضمون کتابچہ کی صورت میں دستیاب ہے)

معرفت، ربانی کا ایک علمی اور فکری مطالعہ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحیدالدین خان اسلام دین فطرت اسلام ایک تعارف

Printed page