Al-Risala · November 2015

مخالفین مذہب کا استدلال

Al-Risala, November 2015, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

" جس طرح ایٹم کے ٹوٹنے سے مادہ کے بارے میں انسان کے پچھلے تمام تصورات ختم ہو گئے اسی طرح پچھلی صدیوں میں علم کی جو ترقی ہوئی ہے وہ بھی ایک قسم کا علمی دھما کہ (knowledge explosion) ہے جس کے بعد خدا اور مذہب کے متعلق تمام پرانے خیالات بھک سے اُڑ گئے ہیں ۔ ( ہندستان ٹائمس ، سنڈے میگزین ، 23 ستمبر 1961) یہ جولین ہکسلے کے الفاظ ہیں ۔ جدید بے خدا مفکرین کے نزدیک مذہب کوئی حقیقی چیز نہیں ہے۔ وہ انسان کی صرف اس خصوصیت کا نتیجہ ہے کہ وہ کائنات کی توجیہہ کرنا چاہتا ہے۔ تو جیہہ تلاش کرنے کا انسانی جذبہ بذات خود غلط نہیں ہے۔ مگر کم تر معلومات نے ہمارے پرانے اجداد کو ان غلط جوابات تک پہنچا دیا جس کو خدا یا مذہب کہا جاتا ہے، اب جس طرح بہت سے دوسرے معاملات میں انسان نے اپنی علمی ترقی سے ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے، اسی طرح توجیہہ کے معاملے میں بھی وہ آج اس پوزیشن میں ہے کہ اپنی انتہائی غلطیوں کی اصلاح کر سکے۔

اس طریق فکر کے مطابق مذہب، حقیقی واقعات کی غیر حقیقی توجیہہ ہے، پہلے زمانے میں انسان کا علم چونکہ بہت محدود تھا اس لیے واقعات کی صحیح توجیہہ میں اسے کامیابی نہیں ہوئی اور اس نے مذہب کے نام سے عجیب عجیب مفروضے قائم کر لیے مگر ارتقاء کے عالم گیر قانون نے آدمی کو اس اندھیرے سے نکال دیا ہے اور جدید معلومات کی روشنی میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اٹکل پچو عقائد پر ایمان رکھنے کے بجائے خالص تجرباتی اور مشاہداتی ذرائع سے اشیاء کی حقیقت معلوم کی جائے، چنانچہ وہ تمام چیزیں جن کو پہلے مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا۔ اب بالکل فطری اسباب کے تحت ان کی تشریح معلوم کر لی گئی ہے۔ جدید طریق مطالعہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ خدا کا وجود فرض کرنا انسان کی کوئی واقعی دریافت نہیں تھی بلکہ یہ محض دورِ علمی کے قیاسات تھے جو علم کی روشنی پھیلنے کے بعد خود بخود ختم ہو گئے جولین ہکسلے کہتا ہے:

”نیوٹن نے دکھا دیا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے جو سیاروں کی گردش پر حکومت کرتا ہو۔ لاپلاس نے اپنے مشہور نظریے سے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ فلکی نظام کو خدائی مفروضہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈارون اور پاسچر نے یہی کام حیاتیات کے میدان میں کیا ہے اور موجودہ صدی میں علم النفس کی ترقی اور تاریخی معلومات کے اضافے نے خدا کو اس مفروضہ مقام سے ہٹا دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور تاریخ کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ (Religion without Revelation, N. Y. 1958. p. 58)

طبعیاتی دنیا میں اس انقلاب کا ہیرو نیوٹن ہے جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کائنات کچھ نا قابل تغیر اصولوں میں بندھی ہوئی ہے۔ کچھ قوانین ہیں جن کے تحت تمام اجرام سماوی حرکت کر رہے ہیں۔ بعد کو دوسرے بے شمار لوگوں نے اس تحقیق کو آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ زمین سے لے کر آسمان تک سارے واقعات ایک اٹل نظام کے تحت ظاہر ہوتے ہوئے نظر آئے جس کو قانون فطرت (law of nature) کا نام دیا گیا۔ اس دریافت کے بعد قدرتی طور پر یہ تصور ختم ہو جاتا ہے کہ کائنات کے پیچھے کوئی فعال اور قادر خدا ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ گنجائش اگر ہو سکتی ہے تو ایسے خدا کی جس نے ابتداء کائنات کو حرکت دی ہو۔ چنانچہ شروع میں لوگ محرک اول کے طور پر خدا کو مانتے رہے۔ والٹیئر نے کہا کہ خدا نے اس کائنات کو بالکل اسی طرح بنایا ہے جس طرح ایک گھڑی ساز گھڑی کے پرزے جمع کر کے انھیں ایک خاص شکل میں ترتیب دے دیتا ہے اور اس کے بعد گھڑی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد ہیوم نے اس ”بے جان اور بے کار خدا“ کو بھی یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ہم نے گھڑیاں بنتے ہوئے دیکھی ہیں۔ لیکن دنیا میں بنتی ہوئی نہیں دیکھیں۔ لیے کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم خدا کو مانیں۔

سائنس کی ترقی اور علم کے پھیلاؤ نے اب انسان کو وہ کچھ دکھا دیا ہے جس کو پہلے اس نے دیکھا واقعات کی جن کڑیوں کو نہ جاننے کی وجہ سے ہم سمجھ نہیں سکتے تھے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا۔ اب واقعات کی تمام کڑیوں کے سامنے آجانے کی وجہ سے ایک جانی بوجھی چیز بن گیا ہے۔

آدمی یہ نہیں جانتا تھا کہ سورج کیسے نکلتا اور کیسے ڈوبتا ہے۔ اس لیے اس نے سمجھ لیا کہ کوئی خدا ہے جو سورج کو نکالتا ہے اور اس کو غروب کرتا ہے۔ اس طرح ایک مافوق الفطری طاقت کا خیال پیدا ہوا۔ جس چیز کو آدمی نہیں جانتا تھا، اس کے متعلق کہہ دیا کہ یہ اسی طاقت کا کرشمہ ہے۔ مگر اب جب کہ ہم جانتے ہیں کہ سورج کا نکلنا اور ڈوبنا اس کے گرد زمین کے گھومنے کی وجہ سے ہوتا ہے تو سورج کو نکالنے اور غروب کرنے کے لیے خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کے متعلق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی ان دیکھی طاقت کام کر رہی ہے وہ سب جدید مطالعہ کے بعد ہماری جانی پہچانی فطری طاقتوں کے عمل اور ردعمل کا نتیجہ نظر آیا۔ گویا واقعہ کے فطری اسباب معلوم ہونے کے بعد وہ ضرورت آپ سے آپ ختم ہو گئی جس کے لیے پہلے لوگوں نے ایک خدا یا فوق الفطری طاقت کا وجود فرض کر لیا تھا۔ ”اگر قوس قزح گرتی ہوئی بارش پر سورج کی شعاعوں کے انعطاف (refraction) سے پیدا ہوتی ہے تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ آسمان کے اوپر خدا کا نشان ہے“ - بکسلے اس قسم کے واقعات پیش کرتا ہوا کس قدر یقین کے ساتھ کہتا ہے:

If events are due to natural causes, they are not due to یعنی واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے تحت پیدا کئے ہوئے نہیں ہو سکتے۔

اب اس دلیل کو لیجئے جو طبیعیاتی تحقیق کے حوالے سے پیش کی گئی ہے۔ یعنی کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں جو واقعات ہورہے ہیں وہ ایک متعین قانون فطرت کے مطابق اس لیے ان کی توجیہہ کرنے کے لیے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت کیوں کہ معلوم قوانین خود اسکی توجیہہ کے لیے موجود ہیں۔ اس استدلال کا بہترین جواب وہ ہے جو ایک عیسائی عالم نے دیا۔ اس نے کہا:

Printed page